انسان کی تخلیق
Urdu book, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
اور وہ پیش آمدہ صورت حال کے مقابلہ میں مثبت طور پر سوچنے کے قابل نہ رہے۔ جو فر دیا گیا وہ چیلنج کے مقابلہ میں اس طرح مثبت جواب (positive response) کا انداز اختیار کرے اس کا فائدہ اس کو یہ ملتا ہے کہ اس کے اندر نیا حوصلہ ابھر آتا ہے۔ اس کی سوئی ہوئی صلاحیتیں جاگ اٹھتی ہیں۔ اس کے اندر وہ فکری انقلاب پیدا ہوتا ہے جس کو نفسیات کی زبان میں دماغی طوفان (brain storm) کہا جاتا ہے۔ یہ چیزیں اقلیتی افراد کے اندر سوئے ہوئے انسان کو بیدار کر دیتی ہیں۔ ایسے افراد زندگی کے ہر میدان میں اکثریت سے زیادہ عمل کا ثبوت دیتے ہیں۔ وہ اپنے ذہنی ارتقاء کی بنا پر اس قابل ہوتے ہیں کہ مسائل کا برتر حل (superior solution) تلاش کر سکیں۔ اقلیتی گروہ میں یہ تمام صفات صبر کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہیں اور فطرت کا یہ قانون ہے کہ زندگی کے معرکہ میں جو صبر کا ثبوت دیں اس دنیا میں وہ لازماً غلبہ حاصل کریں گے۔ حتیٰ کہ اکثریتی گروہ کے مقابلہ میں بھی۔ 2-009 ایک دعاء سورہ البقرہ کا خاتمہ ایک دعا پر ہوتا ہے۔ وہ دعا یہ ہے: ربنا لا تؤاخذنا ان نسينا أو اخطأنا ربنا ولا تحمل علينا اصراً كما حملته على الذين من قبلنا ربنا ولا تحملنا ما لا طاقة لنا به واعف عنا واغفر لنا وارحمنا أنت مولانا فانصرنا على القوم الكافرين (البقره ۲۸۶) اے ہمارے رب ہم کو نہ پکڑ اگر ہم بھولیں یا ہم غلطی کریں۔ اے ہمارے رب ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو تو نے ڈالا تھا ہم سے اگلوں پر۔ اے ہمارے رب ہم پر وہ بوجھ نہ رکھ جس کی طاقت ہم کو نہیں اور در گزر کر ہم سے اور ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم کر۔ تو ہمارا کار ساز ہے۔ پس انکار کرنے والوں کے مقابلہ میں ہماری مدد کر۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader