Urdu book · مطالعہ قرآن

انسان کی تخلیق

Urdu book, p. 41

By Maulana Wahiduddin Khan

دعا کیا ہے۔ دعا بندے کے قلبی احساسات کا خدا کے سامنے اظہار ہے۔ جب ایک انسان ایک طرف اپنے کامل عجز کو اور دوسری طرف خدا کی کامل قدرت کو دریافت کرتا ہے تو اس کے بعد فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ وہ بے تابانہ طور پر خدا کو پکارنے لگتا ہے۔ اس کے اندر یہ تڑپ جاگ اٹھتی ہے کہ وہ اپنے سارے احساسات اور اپنے سارے جذبات کو اپنے رب کے سامنے پیش کردے۔ وہ اپنی عبدیت اور خدا کی معبودیت کا کامل اظہار بن جائے۔ یہ لطیف احساسات جب لفظوں کی صورت میں ڈھل جائیں تو اسی کا نام دعا ہے۔ مذکورہ الفاظ بظاہر قرآن کے الفاظ ہیں مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ فطرت انسان کی پکار ہے۔ ان الفاظ میں گویا کہ خود انسان کے خالق نے ایک سچے انسان کے اندر اٹھنے والے ربانی جذبات کو لفظوں میں ڈھال دیا ہے۔ ایک آدمی کو جب سچا ایمان حاصل ہوتا ہے تو وہ بے تابانہ طور پر یہ چاہنے لگتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ہمہ تن خدا کی اطاعت میں دے دے۔ مگر ایک طرف خدا کی بے پناہ عظمت اور دوسری طرف اپنے بے پناہ عجز کی بنا پر اس کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ اطاعت الہی کا حق ادا نہیں کر سکتا۔ اس کے یہ احساسات مذکورہ قسم کے دعائیہ الفاظ میں ڈھل جاتے ہیں۔ وہ یہ نہیں کہہ پاتا کہ خدایا! میں تیرے دربار میں اعمال کا تحفہ لے کر آیا ہوں تو اس کو قبول فرما۔ اس کی نظر اپنے کے پر نہیں ہوتی بلکہ اس پر ہوتی ہے جو وہ نہ کر سکا ہو۔ ان احساسات کے تحت وہ پکار اٹھتا ہے کہ خدایا! میری غلطیوں اور خطاؤؤں کا مجھ سے حساب نہ لے۔ مجھ کو ان آزمائشوں میں نہ ڈال جن سے میرے پیش روؤں کو گزرنا پڑا۔ خدایا! مجھ سے تھوڑے عمل کو قبول کرلے، کیوں کہ میرے اندر زیادہ عمل کی طاقت نہیں۔ خدایا جب تو میرا حساب لے تو میرے ساتھ معافی اور درگزر کا معاملہ فرما۔ اور مجھ کو اپنی رحمتوں کے سایہ میں لے لے ۔ خدایا تو میرے دشمنوں کے خلاف میری مدد فرما، اور میری طرف سے ان کے مقابلہ کے لئے کافی ہو جا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page