Urdu book · مطالعہ قرآن

محکم، متشابہ

Urdu book, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

محکم، متشابہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اس کی آیتیں بنیادی طور پر دو قسم کی ہیں___ محکم اور متشابہ۔ اس سلسلے میں قرآن کا بیان یہ ہے: وہی ہے جس نے تمہارے اوپر کتاب اتاری۔ اس میں بعض آیتیں محکم ہیں، وہ کتاب کی اصل ہیں۔ اور دوسری آیتیں متشابہ ہیں۔ پس جن کے دلوں میں ٹیڑھ ہے وہ متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑ جاتے ہیں فتنے کی تلاش میں اور اس کے مطلب کی تلاش میں۔ حالاں کہ ان کا مطلب اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور جو لوگ پختہ علم والے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم ان پر ایمان لائے۔ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے۔ اور نصیحت وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔ (آل عمران ۷) قرآن کی اس آیت میں متشابہات کا مطلب متماثلات ہے۔ یعنی تمثیلات کی زبان۔ قرآن میں غیب کی باتوں کو تمثیل کی زبان میں واضح کیا گیا ہے اور موجودہ معلوم دنیا کی باتوں کو محکم زبان میں۔ قرآن میں دو طرح کے مضامین ہیں۔ ایک وہ جو انسان کی معلوم و معروف دنیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ مثلاً تاریخی واقعات، کائناتی نشانیاں، دنیوی زندگی کے احکام وغیرہ۔ دوسرے وہ جن کا تعلق ان غیبی امور سے ہے جو آج کے انسان کے لئے ناقابل ادراک ہیں۔ مثلاً خدا کی صفات، جنت دوزخ کے احوال، فرشتوں کی نوعیت، وغیرہ۔ پہلی قسم کی باتوں کو قرآن میں محکم انداز، بالفاظ دیگر براہ راست اسلوب میں بیان کیا گیا ہے۔ دوسری قسم کی باتیں انسان کی نامعلوم دنیا سے متعلق ہیں، وہ انسانی زبان کی گرفت میں نہیں آتیں۔ اس لئے ان کو متشابہانہ انداز یعنی تمثیل و تشبیہ کے اسلوب میں بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً انسان کا ہاتھ کہا جائے تو یہ براہ راست زبان کی مثال ہے اور اللہ کا ہاتھ تمثیلی زبان کی مثال۔ جو لوگ اس فرق کو نہیں سمجھتے وہ متشابہ آیتوں کا مفہوم بھی اس طرح متعین کرنے لگتے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page