Urdu book · مطالعہ قرآن

محکم، متشابہ

Urdu book, p. 43

By Maulana Wahiduddin Khan

ہیں جس طرح محکم آیتوں کا مفہوم متعین کیا جاتا ہے۔ یہ اپنے فطری دائرہ سے باہر نکلنے کی کوشش ہے۔ اس قسم کی کوشش کا انجام اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ آدمی ہمیشہ بھٹکتا رہے اور کبھی منزل پر نہ پہنچے۔ کیوں کہ ”انسان کے ہاتھ “ کو متعین طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ مگر ”خدا کے ہاتھ “ کو موجودہ عقل کے ساتھ متعین طور پر سمجھنا ممکن نہیں۔ قرآن فہمی کا یہ اصول عین فطرت کے اصول کے مطابق ہے۔ انسان کو ہر معاملے میں یہی کرنا پڑتا ہے کہ وہ کچھ باتوں کو کامل طور پر جاننے کی کوشش کرے، اور کچھ دوسری باتوں کے سلسلے میں اجمالی علم پر اکتفا کرے۔ یہی عام اصول قرآن کو سمجھنے کے لئے بھی ضروری ہے۔ جو لوگ اس اصول کو ملحوظ نہ رکھیں وہ قرآن کو پڑھ کر اس سے صرف ذہنی انتشار کی غذا حاصل کریں گے، وہ اس سے حقیقی استفادہ نہیں کر سکتے۔ 3-011 خدا کا عطیہ قرآن میں جس طرح عبادت کے احکام ہیں اسی طرح قرآن میں تاریخ میں تبدیلی کے قوانین بھی بتائے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں قرآن کا ایک حصہ یہ ہے : تم کہو کہ اے اللہ، سلطنت کے مالک، تو جس کو چاہے سلطنت دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے۔ اور تو جس کو چاہے عزت دے اور جس کو چاہے ذلیل کرے۔ تیرے ہاتھ میں ہے سب خوبی۔ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔ تو رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ اور تو بے جان سے جان دار نکالتا ہے اور تو جاندار سے بے جان کو نکالتا ہے۔ اور تو جس کو چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔ (آل عمران ۲۶-۲۷) قرآن کی یہ آیت انسانی تاریخ کے بارے میں ایک اہم خدائی قانون کو بتاتی ہے۔ اور وہ یہ کہ دنیا میں کسی کو اقتدار کا ملنا اور کسی سے اقتدار کا چھن جانا دونوں تمام تر خدا کے فیصلے کے تحت ہوتے ہیں۔ جس طرح زمین پر رات اور دن کا آنا تمام تر خدائی نظام کے تحت ہوتا ہے اسی طرح

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page