Urdu book · مطالعہ قرآن

محکم، متشابہ

Urdu book, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

اقتدار کا بھی کسی سے چھننا اور کسی کو دیا جانا تمام تر خدائی معاملہ ہے نہ کہ محض ایک انسانی معاملہ۔ اس دنیا میں اقتدار کو نشانہ بنا کر مہم چلانا ایسا ہی ہے جیسے رات اور دن کے نظام کو بدلنے کے لئے مہم چلانا۔ اقتدار کے نظام میں تبدیلی خدائی مصلحتوں کے تحت ہوتی ہے نہ کہ انسانی کوششوں کے تحت۔ ایسی حالت میں آدمی کو چاہئے کہ وہ اپنے حاصل شدہ دائرہ میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرے، اور اقتدار کے دائرہ میں قناعت کے اصول کو اختیار کرے۔ ہر قسم کی عزت و طاقت اللہ کے اختیار میں ہے۔ وقت کے بڑے جس کو بے حقیقت سمجھ لیں، خدا اچاہے تو اسی کے حق میں عزت و سر بلندی کا فیصلہ کر دے۔ علم کی گدیوں پر بیٹھنے والے جس کے جہل کا فتویٰ دیں، خدا چاہے تو اسی کے ذریعہ علم کا چشمہ جاری کر دے۔ خدا کی نظر میں اگر کوئی عزت و طاقت کا مستحق ہو سکتا ہے تو وہ جو اس کو خالص خدا کی چیز سمجھے اور خدا کی نظر میں اس کا سب سے زیادہ غیر مستحق اگر کوئی ہے تو وہ جو اس کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھ لے۔ خدا وسیع تر کائنات میں روزانہ بہت بڑے پیمانہ پر یہ کرشمہ دکھا رہا ہے کہ وہ تاریکی کو روشنی کے اوپر اوڑھادیتا ہے اور روشنی کو تاریکی کے اوپر ڈال دیتا ہے۔ وہ مردہ عناصر سے زندگی وجود میں لاتا ہے اور زندہ چیزوں کو مردہ عناصر میں تبدیل کرتا ہے۔ خدا کی یہی قدرت اگر انسانی تاریخ میں ظاہر ہو تو اس میں تعجب کی کیا ضرورت۔ 3-012 ربانی بنو قرآن میں ارشاد ہوا ہے: کسی انسان کا یہ کام نہیں کہ اللہ اس کو کتاب اور حکمت اور نبوت دے اور وہ لوگوں سے یہ کہے کہ تم اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ بلکہ وہ تو کہے گا کہ تم اللہ والے بنواس واسطے کہ تم دوسروں کو کتاب کی تعلیم دیتے ہو اور خود بھی اس کو پڑھتے ہو۔ (آل عمران (۷۹) اس آیت کے مطابق خدا کے پیغمبروں نے انسان کو جو تعلیم دی وہ یہ تھی کہ اے لوگو! تم لوگ ربانی بنو۔ ربانی کا مطلب ہے رب والا۔ یہ لفظ قرآن میں اس انسان کے لئے استعمال ہوا ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page