Urdu book · مطالعہ قرآن

محکم، متشابہ

Urdu book, p. 45

By Maulana Wahiduddin Khan

جو غیر خدا پرستانہ زندگی کو چھوڑ کر خدا پرستانہ زندگی اختیار کرے، جو غیر اللہ میں جینے کے بجائے صرف اللہ میں جینے لگے۔ جس کے صبح و شام صرف آخرت کی یاد میں بسر ہوں نہ کہ ان دنیوی اور مادی چیزوں میں جن کے درمیان موجودہ زندگی میں آدمی کو رہنا پڑتا ہے۔ عام انسان کی غذا اگر مادیت ہے تو ربانی انسان کی غذا روحانیت۔ عام انسان کی دلچسپیاں اگر ظاہری چیزوں میں بکھری ہوئی ہوتی ہیں تو ربانی انسان اعلیٰ حقیقتوں کو اپنی دلچسپی کا مرکز بناتا ہے۔ عام انسان اگر مخلوقات میں جیتا ہے تو ربانی انسان خالق کا ئنات میں۔ ربانی انسان کو تواضع میں لذت ملتی ہے نہ کہ فخر میں۔ ربانی انسان معاف کرنے کو محبوب سمجھتا ہے نہ کہ انتقام لینے کو۔ ربانی انسان کو سادگی پسند ہوتی ہے نہ کہ نمائش اور تکلف۔ ربانی انسان پچھلی سیٹ پر بیٹھنا پسند کرتا ہے نہ کہ اگلی سیٹ پر۔ ربانی انسان وہ ہے جو بولے کم اور سوچے زیادہ۔ جو دوسروں کے احتساب سے زیادہ اپنے احتساب میں دلچسپی رکھتا ہو۔ جس کو پانے میں خوشی نہ ہو اور کھونا جس کو غمگین نہ کرے۔ جس کی تو جہات کا مرکز کل والی دنیا ہو نہ کہ آج والی دنیا۔ اسلامی روحانییات اسلام کے مطابق، روحانیت کا سر چشمہ کسی پر اسرار قسم کی ورزش یا عملیات میں نہیں ہے بلکہ اس کا سر چشمہ حقائق عالم میں غور و فکر ہے۔ غور و فکر کے ذریعہ آدمی یہاں ایسے فیضانات حاصل کرتا ہے جو اس کے اندر روحانی تموج پیدا کریں اور اس کو مادی انسان سے اٹھا کر روحانی انسان بنا دیں۔ یہ حقیقت قرآن کی ان آیتوں سے معلوم ہوتی ہے: آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے باری باری آنے میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ جو کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے رہتے ہیں۔ وہ کہہ اٹھتے ہیں اے ہمارے رب تو نے یہ سب بے مقصد نہیں بنایا۔ تو پاک ہے، پس ہم کو آگ کے عذاب سے بچا۔ اے ہمارے رب تو نے جس کو آگ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page