محکم، متشابہ
Urdu book, p. 46
By Maulana Wahiduddin Khan
میں ڈالا اس کو تو نے واقعی رسوا کر دیا۔ اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔ اے ہمارے رب ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا جو ایمان کی طرف پکار رہا تھا کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ۔ پس ہم ایمان لائے۔ اے ہمارے رب ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہماری برائیوں کو ہم سے دور کر دے اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ کر۔ اے ہمارے رب تو نے جو وعدے اپنے رسول کی معرفت ہم سے کئے ہیں ان کو ہمارے ساتھ پورا کر اور قیامت کے دن ہم کو رسوائی میں نہ ڈال۔ بے شک تو اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا نہیں۔ (آل عمران ۱۹۰ - ۱۹۴) اسلام کے مطابق، روحانیت کسی پراسرار دنیا میں گم ہونے کا نام نہیں ہے اور نہ وہ ایک ایسی تلاش ہے جو خود اپنی ذات سے شروع ہوتی ہے اور اپنی ذات ہی پر ختم ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس اسلامی روحانیت یہ ہے کہ آدمی حقیقت خداوندی کا زندہ عرفان حاصل کرے۔ وہ حقیقتوں کی ابدی دنیا میں اپنے لئے ایک باشعور مقام پالے۔ اسلامی روحانیت کا سفر معلوم راستوں سے ہو کر گزرتا ہے نہ کہ نامعلوم وادیوں سے۔ کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ ایک خاموش اعلان ہے۔ آدمی جب اپنے کان اور آنکھ سے مصنوعی پردوں کو ہٹاتا ہے تو وہ اس خاموش اعلان کو ہر طرف سننے اور دیکھنے لگتا ہے۔ اب اس کو نا ممکن نظر آتا ہے کہ ایک ایسی کائنات جس کے ستارے اور سیارے کھربوں سالوں تک بھی ختم نہیں ہوتے وہاں انسان اپنی تمام خواہشوں اور تمناؤں کو لئے ہوئے صرف پچاس سال اور سو سال میں ختم ہو جائے۔ ایک ایسی دنیا جہاں درختوں کا حسن اور پھولوں کی لطافت ہے۔ جہاں ہوا اور پانی اور سورج جیسی بے شمار معنی چیزوں کا اہتمام کیا گیا ہے وہاں انسان کے لئے حزن اور غم کے سوا کوئی اور انجام نہ ہو۔ پھر یہ بھی اس کو نا ممکن نظر آتا ہے کہ ایک ایسی دنیا جہاں یہ اتھاہ امکان رکھا گیا ہے کہ یہاں ایک چھوٹا سا بیج زمین میں ڈالا جائے تو اس کے اندر سے ہرے بھرے درخت کی ایک پوری کائنات نکل آئے۔ وہاں آدمی نیکی کی زندگی اختیار کر کے بھی اس کا کوئی پھل نہ پاتا ہو۔ ایک ایسی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader