Urdu book · مطالعہ قرآن

محکم، متشابہ

Urdu book, p. 47

By Maulana Wahiduddin Khan

دنیا جہاں ہر روز تاریک رات کے بعد روشن دن آتا ہے وہاں صدیاں گزر جائیں اور عدل و انصاف کا اجالا اپنی چمک نہ دکھائے۔ ایک ایسی دنیا جس کی گود میں زلزلے اور طوفان سورہے ہیں وہاں انسان ظلم پر ظلم کرتا رہے مگر کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا سامنے نہ آئے۔ جو لوگ حقیقتوں میں جیتے ہیں اور گہرائیوں میں اتر کر سوچتے ہیں ان کے لئے نا قابلِ یقین ہو جاتا ہے کہ ایک با معنی کائنات بے معنی انجام پر ختم ہو جائے۔ غور و فکر کے بعد وہ جان لیتے ہیں کہ حق کا داعی جو پیغام دے رہا ہے وہ نطق کی زبان میں اسی بات کا اعلان ہے جو خاموش زبان میں ساری کائنات میں نشر ہو رہا ہے۔ ان کے لئے سب سے بڑا مسئلہ یہ بن جاتا ہے کہ جب سچائی کھلے اور جب انصاف کا سورج نکلے تو اس دن وہ ناکام و نامراد نہ ہو جائیں۔ وہ اپنے رب کو پکارتے ہوئے اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں، وہ مفاد اور مصلحت کی تمام حدوں کو توڑ کر داعیِ حق کے ساتھ ہو جاتے ہیں تاکہ جب کائنات کا اجالا اور کائنات کا اندھیرا ایک دوسرے سے الگ کئے جائیں تو کائنات کا مالک ان کو اجالے میں جگہ دے، وہ ان کو اندھیرے میں ٹھوکریں کھانے کے لئے نہ چھوڑے۔ یہ ذہنی دریافت آدمی کی پوری زندگی کو بدل دیتی ہے۔ اب وہ ایک نیا انسان بن جاتا ہے، ایک ایسا انسان جو دنیا میں با معنی زندگی کی تعمیر کرے اور آخرت میں بھی اپنے لئے ایک با معنی زندگی حاصل کرلے۔ 4-014 شرک ناقابلِ معافی اسلام میں گناہ کا یہ تصور نہیں کہ ایک بار اس کا ارتکاب کرنے کے بعد اس کی معافی نہیں ہو سکتی۔ اسلام کے مطابق، توبہ اور اعتراف کے بعد ہر گناہ معاف ہو جاتا ہے۔ البتہ شرک ایک ایسا گناہ ہے جو خدا کے یہاں قابلِ معافی نہیں۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : بے شک اللہ اس کو نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے۔ لیکن اس کے علاوہ جو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page