Urdu book · مطالعہ قرآن

محکم، متشابہ

Urdu book, p. 48

By Maulana Wahiduddin Khan

کچھ ہے اس کو جس کے لئے چاہے گا بخش دے گا۔ اور جس نے اللہ کا شریک ٹھہرایا اس نے بڑا طوفان باندھا۔ (النساء ۲۸) شرک کیا ہے۔ شرک یہ ہے کہ ان چیزوں میں کسی کو اللہ کا شریک اور ہم سر ٹھہرایا جائے۔ جو صرف خدا کے لئے خاص ہیں۔ مثلاً کائنات کی تخلیق اللہ نے تنہا اپنی قدرت سے کی ہے۔ اب اگر کوئی شخص تخلیق کے اس عمل میں کسی اور کو شامل کرے تو وہ شرک ہوگا۔ اللہ کا کائنات کے نظام کو تنہا چلا رہا ہے۔ اب اگر کوئی شخص کسی اور کو بھی کائنات کے نظام میں متصرف مانے تو یہ شرک ہوگا۔ ہر قسم کا اختیار حقیقی طور پر صرف ایک اللہ کو حاصل ہے۔ اب اگر کوئی مانے کہ ان اختیارات میں کوئی اور بھی حصہ دار ہے تو یہ شرک ہوگا۔ انسان کو دنیا میں جو مختلف قسم کا رزق ملتا ہے وہ تمام تر اللہ کی طرف سے ہوتا ہے۔ اب اگر کوئی شخص سمجھے کہ کوئی اور بھی ہے جو رزق رسانی کا اختیار رکھتا ہے تو یہ شرک ہوگا۔ اسی طرح اللہ یا معبود کا درجہ صرف ایک خدا کو حاصل ہے۔ اب اگر کوئی شخص کسی اور کو معبود مانے تو یہ شرک ہوگا۔ اسی طرح عبادت کی قسم کے تمام اعمال صرف ایک خدا کا حق ہیں۔ اب اگر کوئی شخص خدا کے ساتھ کسی اور کی عبادت کرنے لگے تو یہ خدا کے ساتھ شرک ہوگا۔ اسی طرح قرآن کے مطابق، محبت شدید اور خوف شدید بھی صرف ایک خدا کا حق ہے۔ اب اگر کوئی شخص ایک خدا کے سوا کسی اور کی محبت شدید یا خوف شدید میں مبتلا ہو جائے تو یہ بھی شرک جیسا ایک عمل ہوگا، وغیرہ۔ شرک نا قابل معافی کیوں ہے۔ اس لئے کہ یہ خدا کی دنیا میں کسی اور کو خدائی کا درجہ دینا ہے۔ یہ خدا کے غیر مشترک حقوق میں کسی اور کو حصہ دار بناتا ہے۔ یہ قرآن کے لفظوں میں کسی اور کو خدا کے ساتھ اس کاند (ہمسر) ٹھہرانا ہے۔ اس قسم کا فعل اپنی نوعیت کے اعتبار سے عین وہی چیز ہے جس کو عام دنیوی اصطلاح میں ریاست سے غداری (treason) یا ریاست سے بغاوت (rebellion) کہا جاتا ہے۔ غداری اور بغاوت جس طرح دنیوی سلطان کے یہاں نا قابل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page