محکم، متشابہ
Urdu book, p. 49
By Maulana Wahiduddin Khan
معافی جرم سمجھے جاتے ہیں، اسی طرح سلطان حقیقی کے یہاں بھی اس قسم کا فعل نا قابل معافی جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔ شرک بلاشبہ اللہ کی سب سے بڑی ناقدری ہے۔ اللہ بشری تقاضے کے تحت پیش آنے والے کسی گناہ کو معاف کر سکتا ہے مگر جو لوگ جان بوجھ کر خدا کی ناقدری کی جسارت کریں وہ یقیناً قابل معافی نہیں ہو سکتے۔ 4-015 تحاکم الی الطاغوت قرآن میں اہلِ ایمان کو خطاب کرتے ہوئے یہ حکم دیا گیا: اے ایمان والو، اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے میں اہلِ اختیار کی اطاعت کرو۔ پھر اگر تمہارے درمیان کسی چیز میں اختلاف ہو جائے تو اس کو اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ، اگر تم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو۔ یہ بات اچھی ہے اور اس کا انجام بہتر ہے۔ کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ایمان لائے ہیں اس پر جو اتارا گیا ہے تمہاری طرف اور جو اتارا گیا ہے تم سے پہلے، وہ چاہتے ہیں کہ قضیہ لے جائیں طاغوت کی طرف، حالاں کہ ان کو حکم دیا گیا ہے کہ اس کو نہ مانیں اور شیطان چاہتا ہے کہ ان کو بہکا کر بہت دور ڈال دے۔ (النساء ۵۹-۶۰) اس آیت میں طاغوت سے مراد قدیم مدینہ کا یہودی سردار کعب بن اشرف ہے۔ (تفسیر القرطبی ۵/ ۲۶۳) اصل یہ ہے کہ مدنی دور کے ابتدائی سالوں میں وہاں اسلام کا کامل اقتدار قائم نہیں ہوا تھا۔ ایک طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تھی جن کے پاس لوگ اپنے نزاعات اور مقدمات کا فیصلہ لینے کے لئے آتے تھے۔ دوسری طرف کعب بن اشرف تھا جس کو وہاں عرصہ سے ایک قسم کی عدالتی حیثیت حاصل ہو گئی تھی۔ جب بھی مدینہ (یثرب) کے دو آدمیوں میں نزاع قائم ہوتی تو دونوں کعب بن اشرف کے پاس آتے اور اس سے اپنے نزاع کا فیصلہ کراتے ۔ اس زمانے میں بعض ایسے واقعات ہوئے جب کہ کسی کمزور مسلمان نے اپنے مقدمے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader