محکم، متشابہ
Urdu book, p. 50
By Maulana Wahiduddin Khan
کے فیصلہ کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر کعب بن اشرف کی طرف رجوع کیا، اس امید میں کہ وہ وہاں اپنی مرضی کے موافق فیصلہ لے سکے گا۔ اس پر یہ آیت اتری اور کہا گیا کہ جو مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر کعب بن اشرف کے یہاں اپنا مقدمہ لے جاتے ہیں وہ شیطان کی پیروی کر رہے ہیں۔ موجودہ زمانے میں یہ قرآنی حکم ان تمام ملکوں پر چسپاں ہوتا ہے جہاں سیکولر عدالتیں قائم ہیں۔ ان ملکوں کے مسلمانوں کے درمیان جب بھی کوئی نزاع قائم ہو، خواہ وہ مالی ہو یا غیر مالی، تو ان پر فرض کے درجہ میں ضروری ہے کہ وہ اپنے نزاعی معاملے کا فیصلہ قرآن و سنت سے کرائیں۔ یعنی ان ملکوں کے دار الافتاء یا دار القضاء یا علماء کی مجلس کے سامنے مقدمہ پیش کیا جائے اور وہ قرآن وسنت کی روشنی میں جو فیصلہ دیں اس کو دونوں فریق بے چون و چرا مان لیں۔ ان ملکوں کے مسلمان اگر ایسا نہ کریں بلکہ وہ اپنے مقدمات اور نزاعات کو سیکولر عدالتوں میں لے جائیں اور وہاں سے اپنی مرضی کے مطابق فیصلے حاصل کریں تو ایسے مسلمان بلاشبہ مذکورہ آیت کا مصداق ہوں گے۔ یہ آیت سیاسی معنی میں نہیں ہے یعنی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مسلمان ہر جگہ اسلامی حکومت قائم کریں اور اس کے تحت شرعی عدالت کا نظام بنائیں تا کہ ان کے مقدمات کا فیصلہ شریعت کی روشنی میں کیا جاسکے۔ اس آیت کا تعلق حاکمانہ نفاذ قانون سے نہیں ہے بلکہ خود اپنی رغبت سے اسلامی حکم کو تسلیم کرنے سے ہے۔ چنانچہ یہ آیت ہر جگہ قابل عمل ہے۔ اسلامی حکومت میں اسلامی عدالتوں کے ذریعہ۔ اور جہاں اسلامی حکومت نہ ہو وہاں علماء اسلام کی مجلس فتویٰ یا مجلس قضاء کے ذریعہ۔ جس ملک میں اسلامی حکومت قائم ہو وہاں کے لئے اس قرآنی حکم کا مطلب یہ ہوگا کہ مسلمانوں کے اوپر حاکمانہ طاقت کے ذریعہ اسلامی قانون کا نافذ کیا جائے۔ اور جہاں اسلامی حکومت قائم نہ ہو وہاں بھی یہ اسلامی حکم بدستور مطلوب رہے گا، صرف اس فرق کے ساتھ کہ اسلامی حکومت میں اگر اس کا نفاذ حاکمانہ طاقت سے کیا جائے گا تو غیر اسلامی حکومت میں ہر مسلمان پر یہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader