مطالعہ قرآن
Urdu book, p. 51
By Maulana Wahiduddin Khan
فرض ہو گا کہ وہ رضا کارانہ طور پر خود اپنی مرضی سے اس کو اپنے اوپر عائد کرے۔ یکساں محاسبہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ آخرت میں انسانوں کا جو محاسبہ ہوگا اس میں ایک اور دوسرے کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا جائے گا، بلکہ ایک ہی اصولِ انصاف کی بنیاد پر سب کا حساب ہوگا۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : نہ تمہاری آرزوؤں پر ہے اور نہ اہل کتاب کی آرزوؤں پر۔ جو کوئی بھی برا کرے گا وہ اس کا بدلہ پائے گا۔ اور وہ نہ پائے گا اللہ کے سوا اپنا کوئی حمایتی اور نہ کوئی مددگار۔ اور جو شخص کوئی نیک کام کرے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت بشر طیکہ وہ مومن ہو، تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر ذرا بھی ظلم نہ ہو گا۔ (النساء ۔ ۱۲۳۔ ۱۲۴) پیغمبر کی دعوتی جدوجہد کے نتیجے میں جو لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں، وہ پیغمبر کی امت کہے جاتے ہیں۔ اس امت کی پہلی نسل کے افراد کا ایمان زندہ ایمان ہو تا ہے۔ ان کی زندگی عمل صالح کا نمونہ ہوتی ہے۔ مگر امت کی بعد کی نسلوں میں ایمان وعمل کا جذبہ کمزور ہو جاتا ہے۔ اب وہ عمل کے بجائے آرزوؤں اور خوش گمانیوں میں جینے لگتے ہیں۔ وہ ذاتی عمل کے بجائے پیغمبر کی امت سے گروہی وابستگی ہی کو نجات کے لئے کافی سمجھ لیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے پہلے یہود کا یہی حال ہو چکا تھا جو اپنے آپ کو موسیٰ کی امت سمجھتے تھے۔ تاہم یہ صرف یہود کی صفت نہیں ہے بلکہ وہ اس زوال کا نتیجہ ہے جو ہر امت پر لازماً پیش آتا ہے اور قرآن اور حدیث کے بیان کے مطابق خود امت مسلمہ پر بھی پیش آنے والا ہے۔ قرآن کی یہ آیت بتاتی ہے کہ اس معاملہ میں خود مسلمانوں کے ساتھ بھی خدا کا قانون وہی ہے جو کہ یہود کے ساتھ تھا۔ امت مسلمہ کے ساتھ بھی یہی پیش آئے گا کہ پہلی نسل میں اس کے افراد زندہ ایمان کے حامل ہوں گے۔ ان کا سارا انحصار عمل صالح پر ہو گا۔ ان کی ساری توجہ اس پر رہے گی کہ وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader