یکساں محاسبہ
Urdu book, p. 52
By Maulana Wahiduddin Khan
دنیا میں سچے ایمان اور حقیقی عمل کا ثبوت دیں تا کہ آخرت میں وہ خدا کی عدالت میں خدا کی رحمتوں کے مستحق قرار پائیں۔ مگر بعد کی نسلوں میں جب وہ زوال کے شکار ہوں گے تو یہ صورت حال بالکل بدل جائے گی۔ اب آخرت کی کامیابی کو پانے کے لئے صرف خوش فہمیاں ان کو کافی نظر آنے لگیں گی۔ ان کے درمیان طرح طرح کے پراسرار عقیدے پیدا ہو جائیں گے جن کی کوئی اصل قرآن و سنت میں نہ ہوگی۔ مگر جھوٹے قصے کہانیوں اور مفروضہ بزرگوں کے خوش نما اقوال کی بنیاد پر وہ ان پر اس طرح یقین کر لیں گے جیسے کہ وہ براہ راست آسمان سے ان کے اوپر اتاری گئی ہیں۔ کچھ ظاہری اعمال، کسی بزرگ کی سفارش، کسی بڑے گروہ سے وابستگی، کچھ پاک کلمات کا ورد، حتی کہ نعت خوانی اور قبروں کی زیارت، بس اس قسم کے سستے اور نمائشی اعمال سے وہ یہ امید قائم کر لیں گے کہ وہ ان کو جہنم سے بچانے کے لئے کافی ہو جائیں گے اور ان کو یقینی طور پر جنت کی پر بہار باغوں میں داخل کر دیں گے۔ مگر قرآن کے مطابق ، یہ سب بے بنیاد خوش فہمیاں ہیں جو نہ یہود کے کام آنے والی ہیں اور نہ مسلمانوں کے کام آنے والی۔ اس قسم کی خوش خیالیاں خواہ ان کو کتنے ہی خوب صورت الفاظ میں بیان کیا گیا ہو، وہ خدا کی میزان عدل میں سراسر بے حقیقت ہیں۔ اللہ کا نظام حد درجہ محکم نظام ہے۔ اس کے یہاں تمام فیصلے حقیقتوں کی بنیاد پر ہوتے ہیں نہ کہ محض آرزوؤں کی بنیاد پر۔ اللہ کی عدالت میں ہر آدمی کا اپنا عمل دیکھا جائے گا اور جیسا جس کا عمل ہو گا ٹھیک اسی کے مطابق اس کا فیصلہ ہو گا۔ اللہ کے قانون عدل کے سوا کوئی بھی دوسری چیز نہیں جو اللہ کے یہاں فیصلہ کی بنیاد بننے والی ہو۔ 4-017 عادلانہ زندگی قرآن میں اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: اے ایمان والو! انصاف پر خوب قائم رہنے والے اور اللہ کے لئے خوب گواہی دینے والے بنو، چاہے وہ تمہارے یا تمہارے ماں باپ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader