Urdu book · مطالعہ قرآن

یکساں محاسبہ

Urdu book, p. 53

By Maulana Wahiduddin Khan

یا عزیزوں کے خلاف ہو۔ اگر کوئی مال دار ہے یا محتاج تو اللہ تم سے زیادہ دونوں کا خیر خواہ ہے۔ پس تم خواہش کی پیروی نہ کرو کہ حق سے ہٹ جاؤ۔ اور اگر تم کجی کرو گے یا پہلو تہی کرو گے تو جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔ (النساء ۱۳۸) اس آیت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دنیا میں عدل کا نظام یا عدل کی حکومت قائم کرو۔ یہ کوئی سیاسی آیت نہیں ہے۔ اس کا خطاب تمام تر فرد سے ہے۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ فرد مسلم دنیا میں کس طرح رہے۔ اس کے مطابق، ہر شخص کو چاہئے کہ اپنی ذاتی زندگی کو عدل وانصاف کے اصول پر قائم کرے۔ اس معاملے میں وہ اپنا نگراں آپ بن جائے۔ انسان کی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ اس کے سامنے ایسا معاملہ آتا ہے جس میں ایک راستہ اپنے مفاد اور خواہش کا ہوتا ہے اور دوسرا حق اور انصاف کا۔ جو لوگ اللہ کی طرف سے غافل ہوتے ہیں، جن کو یقین نہیں ہوتا کہ اللہ ہر وقت ان کو دیکھ رہا ہے وہ ایسے موقع پر اپنی خواہش کے رخ پر چل پڑتے ہیں۔ وہ اس کو کامیابی سمجھتے ہیں کہ حق کی پروا نہ کریں اور معاملہ کو اپنے مفاد اور اپنی مصلحت کے مطابق طے کریں۔ مگر جو آدمی اللہ سے ڈرتا ہے، جو اللہ کو اپنا نگراں بنائے ہوئے ہے وہ تمام تر انصاف کے پہلو کو دیکھتا ہے اور وہی کرتا ہے جو حق و انصاف کا تقاضا ہو۔ اس کی کوشش ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ اس کو موت آئے تو اس حال میں کہ اس نے کسی کے ساتھ بے انصافی نہ کی ہو، وہ اپنے آپ کو مکمل طور پر قسط اور عدل پر قائم کئے ہوئے ہو۔ ایسے آدمی کی انصاف پسندی کا جذ بہ اتنا بڑھا ہوا ہوتا ہے کہ اس کے لئے نا ممکن ہو جاتا ہے کہ وہ انصاف سے ہٹا ہوا کوئی رویہ دیکھے اور اس کو برداشت کر لے۔ جب بھی ایسا کوئی معاملہ سامنے آتا ہے کہ ایک شخص دوسرے کے ساتھ نا انصافی کر رہا ہو تو وہ ایسے موقع پر حق کا اعلان کرنے سے باز نہیں رہتا۔ اگر انصاف کا اعلان کرنے میں اس کے قریبی تعلق والوں پر زد پڑتی ہو یا اس کی اپنی مصلحتیں مجروح ہوتی ہوں تب بھی وہ وہی کہتا ہے جو انصاف کی رو سے اسے کہنا چاہئے۔ اس کی زبان کھلتی ہے تو اللہ کے لئے کھلتی ہے نہ کہ کسی اور چیز کے لئے۔ اسی طرح یہ بات

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page