یکساں محاسبہ
Urdu book, p. 54
By Maulana Wahiduddin Khan
بھی خلاف عدل ہے کہ صاحب معاملہ طاقت ور ہو تو اس کو اس کا حق دیا جائے اور اگر صاحب معاملہ کمزور ہو تو اس کا حق اس کو نہ دیا جائے ۔ مومن وہ ہے جو ہر آدمی کے ساتھ انصاف کرے خواہ وہ زور آور ہو یا کمزور ۔ جب کوئی آدمی نا انصافی کا ساتھ دے تو وہ یہ کہہ کر ایسا نہیں کرتا کہ میں نا انصافی کرنے والے کا ساتھی ہوں۔ بلکہ وہ اپنی نا انصافی کو انصاف کا رنگ دینے کی کوشش کرتا ہے۔ اس مقصد کے لئے وہ دو میں ایک رویہ اختیار کرتا ہے۔ یا تو وہ یہ کرتا ہے کہ اصل بات کو بدل دیتا ہے۔ وہ معاملہ کی نوعیت کو ایسے الفاظ میں بیان کرتا ہے جس سے ظاہر ہو کہ یہ نا انصافی کا معاملہ نہیں بلکہ عین انصاف کا معاملہ ہے، جس کے ساتھ زیادتی کی جارہی ہے وہ اسی کا مستحق ہے کہ اس کے ساتھ ایسا کیا جائے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی خاموشی اختیار کرلے۔ یہ جانتے ہوئے کہ یہاں نا انصافی کی جارہی ہے۔ وہ اس کے معاملے میں غیر جانب دار بن جائے۔ اور جو کہنے کی بات ہے اس کو وہ زبان پر نہ لائے۔ اس قسم کا طرز عمل ثابت کرتا ہے آدمی اپنے اوپر اللہ کو گراں نہیں سمجھتا۔ وہ اس آنے والے دن سے بے فکر ہے جب کہ خدا اس کو پکڑے گا اور اس سے اس کے قول اور فعل کا حساب لے گا۔ 5-018 استحکامِ دین ہجرت کے دسویں سال قرآن کی وہ آیت اتری جس کو تکمیل دین کی آیت کہا جاتا ہے۔ وہ آیت یہ ہے : الیوم یئس الذین کفروا من دینکم فلا تخشوهوم واخشونہ الیوم اکملت لک دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دیناً (المائدہ ۳) یعنی آج انکار کرنے والے لوگ تمہارے دین کی طرف سے مایوس ہوگئے۔ پس تم ان سے نہ ڈرو، صرف مجھ سے ڈرو۔ آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کر لیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader