یکساں محاسبہ
Urdu book, p. 55
By Maulana Wahiduddin Khan
اس آیت میں تکمیل سے مراد فہرست احکام کی تکمیل نہیں ہے۔ کیوں کہ یہ ثابت ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد بھی قرآن میں کئی احکام اترے۔ (الجامع لاحکام القرآن للقرطبی، ۶۲/۶) مزید یہ کہ اس آیت میں تکمیل دین کا فائدہ بتاتے ہوئے یہ نہیں کہا گیا کہ اب تم کو ہر حکم قرآن میں مل جائے گا کیوں کہ سارے ممکن احکام قرآن میں اتار دیئے گئے ہیں۔ بلکہ اس کے بجائے یہ کہا گیا کہ اب منکرین اور مخالفین اس سے مایوس ہو چکے ہیں کہ وہ تمہارے خلاف کچھ کر سکیں۔ اب تمہارے لئے خشیت (ڈَر) کا مسئلہ خدا کی طرف سے ہے نہ کہ انسانوں کی طرف سے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہاں تکمیل دین سے مراد دین کا استحکام ہے نہ کہ فہرست احکام کی تکمیل۔ جب یہ آیت اتری اس وقت مکہ فتح ہو چکا تھا اور عرب کے تمام قبائل مدینہ کی اسلامی ریاست کے تحت آچکے تھے۔ مشرک کی مغلوبیت اور توحید کے غلبہ کا مقصد پوری طرح حاصل ہو چکا تھا۔ اس طرح واضح ہو گیا تھا کہ اسلام ایک مستحکم دین کی حیثیت حاصل کر چکا ہے۔ اس سلسلے میں یہاں دو حوالے نقل کئے جاتے ہیں : وقيل : "اكملت لكم دينكم“ بأن اهلکت (لکم) عدوكم و أظهرت دينكم علی الدین کله كما تقول: قد تم لنا ما نريد اذا كفيت عدوك (تفسير القرطبی ۶۲/۶) يئسوا من دينكم ان يغلبوه لان الله تعالى وفى بوعده من اظهاره علی الدین کله...... (اکملت لكم دينكم ) بأن كفيتم خوف عدوكم و أظهرتكم عليهم كما يقول الملوك اليوم كمل لنا الملك أى كفينا من كنا نخافه (تفسير النسفي (۲۷۰/۱) یعنی اللہ نے دین اسلام کو اس طرح کامل کر دیا کہ اسلام کے دشمن ہمیشہ کے لئے مغلوب ہوگئے اور دین اسلام کو تمام دینوں کے اوپر غالب کر دیا۔ اب دشمن تمہارے بارے میں مایوس ہو گئے ہیں کہ وہ اس دین کو مغلوب کر سکیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے بادشاہ لوگ کہتے ہیں کہ آج ہمارا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader