یکساں محاسبہ
Urdu book, p. 56
By Maulana Wahiduddin Khan
اقتدار مکمل ہو گیا یعنی آج ہمارے دشمنوں سے کوئی خطرہ نہیں رہا۔ دین اسلام کے مستحکم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اب وہ اس طرح محفوظ ہو چکا ہے کہ اس کی محفوظیت کے لئے اب کوئی خطرہ نہیں ہے۔ دنیا کے انقلابات اب کبھی بھی اسلام کو مٹانے میں کامیاب نہ ہو سکیں گے۔ دنیا کی کوئی بھی علمی ترقی اسلام کی صداقت کو مشتبہ نہ کر سکے گی۔ بعد کے زمانے کی دریافتیں اسلام کی صداقت کو ثابت کرنے والی ہوں گی نہ کہ اس کی تردید کرنے والی۔ ہر دور میں اسلام کو ایسے حامی اور مددگار ملتے رہیں گے جو اس کو ایک سچے دین کی حیثیت سے زندہ رکھیں، وغیرہ۔ قرآن کی یہ آیت قرآن کے کتاب الہیٰ ہونے کا ایک کھلا ثبوت ہے۔ کیوں کہ چودہ سو سال پہلے کا ایک اعلان ہر قسم کے اختلاف کے باوجود اپنی معنویت کو باقی رکھے ہوئے ہے۔ یہ اعلان استثنائی طور پر ابدی اعلان بنا ہوا ہے۔ 5-019 مومن کی پہچان قرآن میں اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: اور اپنے اوپر اللہ کی نعمت کو یاد کرو اور اس کے اس عہد کو یاد کرو جو اس نے تم سے لیا ہے۔ جب کہ تم نے کہا کہ ہم نے سنا اور ہم نے مانا۔ اے ایمان والو، اللہ کے لئے قائم رہنے والے اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بنو۔ اور کسی گروہ کی دشمنی تم کو اس پر نہ ابھارے کہ تم انصاف نہ کرو، انصاف کرو۔ یہی تقویٰ سے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو بے شک اللہ کو خبر ہے جو تم کرتے ہو۔ (المائدہ ۷۔۸) ایمان ایک عہد ہے جو بندے اور خدا کے درمیان قرار پاتا ہے۔ بندہ یہ وعدہ کرتا ہے کہ وہ دنیا میں اللہ کی مرضی کے مطابق رہے گا۔ بندے کو اپنے عہد میں پورا اترنے کے لئے دو باتوں کا ثبوت دینا ہے۔ ایک یہ کہ وہ قوام للہ بن جائے۔ یعنی وہ خدا کی باتوں پر خوب قائم رہنے والا ہو۔ اس کا جو ہر موقع پر صحیح ترین جواب پیش کرے جو بندے کو اپنے رب کے لئے پیش کرنا چاہئے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader