Urdu book · مطالعہ قرآن

یکساں محاسبہ

Urdu book, p. 57

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ جب کائنات کو دیکھے تو اس کا ذہن خدا کی قدرتوں اور عظمتوں کے تصور سے سرشار ہو جائے۔ وہ جب اپنے آپ کو دیکھے تو اس کو اپنی زندگی سراپا اللہ کا فضل اور اس کا احسان نظر آئے۔ اس کے جذبات اندیس تو خدا کے لئے امڈیں۔ اس کی تو جہات کسی چیز کو اپنا مرکز بنائیں تو خدا کو بنائیں ۔ اس کی محبت خدا کے لئے ہو۔ اس کے اندیشے خدا سے وابستہ ہوں۔ اس کی یادوں میں خدا سمایا ہوا ہو۔ وہ خدا کی عبادت واطاعت کرے۔ خدا کے راستہ میں اپنے اثاثہ کو خرچ کرے۔ وہ اپنے آپ کو خدا کے دین کے راستہ میں لگا کر خوش ہوتا ہو۔ عہد پر قائم رہنے کی دوسری شرط بندوں کے ساتھ انصاف ہے۔ انصاف کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کے ساتھ کمی بیشی کئے بغیر وہ سلوک کرنا جس کا وہ باعتبار واقعہ مستحق ہے، معاملات میں حق کو اپنا نانہ کہ اپنی خواہشات کو۔ اس معاملہ میں بندے کو اتنا زیادہ پابند بنایا ہے کہ وہ ایسے مواقع پر بھی اپنے کو انصاف سے باندھے رہے جب کہ وہ دشمنوں اور باطل پرستوں سے معاملہ کر رہا ہو، جب کہ شکایتیں اور تلخ یادیں اس کو انصاف کے راستہ سے پھیر نے لگیں۔ دنیا میں خدا نشانیوں کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ یعنی ایسے دلائل کی صورت میں جس کی کاٹ آدمی کے پاس موجود نہ ہو۔ جب آدمی کے پاس خدا کی دلیل آئے اور وہ اس کو ماننے کے بجاۓ اس پر لفظی تکرار کرنے لگے تو اس نے خدا کی نشانی کو جھٹلایا۔ ایسے لوگ خدا کے یہاں سخت سزا پائیں گے ۔ اور جن لوگوں نے اس کو مان لیا وہ خدا کے انعام کے مستحق ہوں گے۔ 020-5 امر بالمعروف نهی عن المنکر قرآن میں بتایا گیا ہے کہ بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ان پر لعنت کی گئی ، داؤد اور ابن مریم کی زبان سے۔ اس لئے کہ انھوں نے نافرمانی کی اور وہ حد سے آگے بڑھ جاتے تھے۔ وہ ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے اس برائی سے جو وہ کرتے تھے۔ نہایت برا کام تھا جو وہ کر رہے تھے۔ (المائدہ ۷۸-۷۹)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page