Urdu book · مطالعہ قرآن

یکساں محاسبہ

Urdu book, p. 58

By Maulana Wahiduddin Khan

لعنت کا مطلب ہے خدا کی رحمت سے دور ہونا۔ قرآن یا حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت داؤد یا حضرت مسیح نے بنی اسرائیل سے یہ کہا ہو کہ اے بنی اسرائیل تم پر لعنت ہو، یا یہ کہ تم لوگ ملعون ہو۔ ایسی حالت میں سوال یہ ہے کہ ان پیغمبروں کے ذریعہ بنی اسرائیل پر جو لعنت کی گئی اس کی صورت کیا تھی۔ قرآن وحدیث نیز بائبل کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان پیغمبروں نے یہ کیا کہ ان کو ایکسپوز (expose) کر دیا۔ یعنی وہ اندر سے دینی اسپرٹ سے خالی ہو چکے تھے لیکن اوپر سے وہ دین داری کا شاندار لبادہ اوڑھے ہوئے تھے۔ ان پیغمبروں نے یہ کیا کہ ان کی اس منافقت اور نمائش دییداری کا پردہ کھول دیا۔ اور انہیں بتایا کہ اس قسم کی بے روح مذہبیت خدا کے یہاں کچھ کام آنے والی نہیں ہے۔ بائبل کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل اپنے زوال کے زمانے میں بالکل بے دین نہیں ہوگئے تھے۔ ان کے یہاں تو رات کو پڑھنے اور پڑھانے کے ادارے قائم تھے ان کے یہاں نماز (عبادت) بھی موجود تھی۔ وہ زرعی پیداوار میں عشر نکالتے تھے۔ ان کے علماء عوام کے سامنے مذہبی موضوعات پر خوش نما تقریریں کرتے تھے۔ اس قسم کی بہت سی مذہبی سرگرمیاں ان کے درمیان جاری تھیں۔ مگر انہوں نے ایک خدائی حکم کو بالکل چھوڑ رکھا تھا۔ وہ ہے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر۔ یعنی اپنی قوم کے لوگوں کو برائیوں سے منع کرنا اور انہیں ظلم کو چھوڑ کر عدل کا طریقہ اختیار کرنے کی تلقین کرنا۔ یہودی علماء چاہتے تھے کہ وہ اپنی قوم کے درمیان اچھے بنے رہیں۔ انھیں قوم کے اوپر سیادت حاصل رہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی قوم کے لوگوں کو برائی اور زیادتی کرتے دیکھتے تھے مگر وہ ایسے افراد کی مذمت نہیں کرتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ اپنی قوم کے درمیان برے بھی نہ بنیں اور دین کا کریڈٹ بھی انھیں حاصل رہے۔ مگر قرآن وحدیث کی واضح تصریح کے مطابق ایسا ہونا ممکن نہیں۔ علماء کو اپنی قوم کی زیادتیوں اور ان کی مفسدانہ کارروائیوں کے خلاف اٹھنا ہوگا۔ اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page