مطالعہ قرآن
Urdu book, p. 59
By Maulana Wahiduddin Khan
کے بغیر صرف اوپری قسم کی دین داری یا روادارانہ قسم کی مذبہیت ان کو خدا کی پکڑ سے بچانے والی نہیں۔ 5-021 جنت کی قیمت قرآن میں ایک صالح گروہ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے : اور جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اتارا گیا ہے تو تم دیکھو گے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں اس سبب سے کہ انھوں نے حق کو پہچان لیا۔ وہ پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم ایمان لائے۔ پس تو ہم کو گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔ اور ہم کیوں نہ ایمان لائیں اللہ پر اور اس حق پر جو ہمیں پہنچا ہے جب کہ ہم یہ آرزو رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہم کو صالح لوگوں کے ساتھ شامل کرے۔ پس اللہ ان کو اس قول کے بدلہ میں ایسے باغ دے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ (المائدہ ۸۳۔۸۵) ان آیات کے مطابق، اللہ نے مذکورہ گروہ کے لئے جنت کا فیصلہ فرمایا۔ اور یہ فیصلہ ان کے ایک قول کی بنا پر تھا (فانابهم الله بما قالوا جنت)۔ یہی بات حدیث میں اس طرح آئی ہے کہ جس شخص نے کہا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ جنت میں داخل ہوگا۔ (من قال لا الله الا الله دخل الجنة) اس آیت میں جنت کو ”قول“ کا بدلہ قرار دیا گیا ہے۔ مگر وہ قول کیا تھا جس نے اس کے قائلین کو ابدی جنت کا مستحق بنایا۔ وہ قول ان کی پوری ہستی کا نمائندہ تھا۔ وہ ان کی شخصیت کے پھٹنے کی آواز تھا۔ انھوں نے اللہ کے کلام کو اس طرح سنا کہ اس کے اندر جو حق تھا اس کو وہ پوری طرح پاگئے۔ وہ ان کے دل و دماغ میں اتر گیا۔ اس نے ان کے اندر ایسا انقلاب برپا کیا کہ ان کے حوصلوں اور تمناؤں کا مرکز بدل گیا۔ تعصب اور مصلحت کی تمام دیواریں ڈھ پڑیں۔ انھوں نے حق کے ساتھ اپنے آپ کو اس طرح شامل کیا کہ اس سے الگ ان کی کوئی ہستی باقی نہ رہی۔ وہ اس کے گواہ بن گئے، اور گواہ بننا ایک حقیقت کا انسان کی صورت میں مجسم ہونا ہے۔ قرآن اب ان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader