مطالعہ قرآن
Urdu book, p. 6
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کتاب میں قرآن کے قدیم بیانات کا تقابل جدید سائنسی دریافتوں سے کیا گیا ہے۔ مصنف نے لکھا ہے کہ دونوں کے درمیان استثنائی طور پر کامل مطابقت کی توجیہہ اس کے سوا کچھ اور نہیں کی جاسکتی کہ قرآن کو خدا کا کلام مانا جائے۔ اس موضوع پر تفصیلی بحث کرتے ہوئے مصنف نے آخر میں لکھا ہے کہ___ In view of the level of knowledge in Mohammad's day, it is inconceivable that many of the statements in the Qur'an which are connected with science could have been the work of a man. It is, more over, perfectly legitimate, not only to regard the Qur'an as the expression of a Revelation but also to award it a very spacial place, on account of the guarantee of authenticity it provides and the presencein it of scientific statements which, when studied today, appear as challenge to explanation in human terms. جمع و تدوین قرآن پرنٹنگ پریس سے پہلے کے زمانہ میں نازل ہوا۔ مگر اس کی حفاظت کے لئے غیر معمولی اہتمام کیا گیا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہر وقت کوئی نہ کوئی کاتب وحی رہتا تھا تا کہ جب بھی جبرئیل قرآن کا کوئی حصہ لے کر اتریں تو فورا اس کو لکھ لیا جائے۔ یہ کتاب اس زمانے کے مستعمل کاغذوں پر ہوتی تھی۔ مثلاً جچلی وغیرہ۔ کتابت کا یہ اہتمام اتنا زیادہ تھا کہ ہجرت کے موقع پر پیغمبر اسلام اپنے صحابی ابو بکر صدیق کے ساتھ مکہ سے مدینہ کے لئے روانہ ہوئے تو اگر چہ یہ انتہائی ہنگامی سفر تھا لیکن اس کے باوجود حضرت ابو بکر صدیق جو ایک کاتب وحی بھی تھے، اپنے ساتھ کاغذ اور قلم بھی لئے ہوئے تھے تاکہ سفر کے دوران اگر قرآن کا کوئی حصہ اترے تو اس کو فوراً لکھ لیا جائے۔ قرآن کو محفوظ کرنے کا یہ اہتمام بیک وقت دو طریقوں سے جاری تھا۔ ایک، نزول کے بعد فوراً اس کو لکھ لینا۔ دوسرے، اس کو باقاعدہ یاد کر لینا۔ اس طرح ایک طرف تقریباً دو درجن کاتب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader