جنت کی قیمت
Urdu book, p. 60
By Maulana Wahiduddin Khan
کے لئے محض ایک کتاب نہ رہا بلکہ مالک کا کائنات کی زندہ نشانی بن گیا۔ یہ ربانی تجربہ جو ان پر گزرا بظاہر اس کا اظہار اگرچہ لفظوں کی صورت میں ہوا تھا لیکن ان کے یہ الفاظ الفاظ نہ تھے بلکہ وہ ایک زلزلہ تھا جس نے ان کے پورے وجود کو ہلا دیا۔ حتی کہ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بہہ پڑیں۔ قول اپنی حقیقت کے اعتبار سے کسی قسم کے لسانی تلفظ کا نام نہیں۔ وہ آدمی کے عمل کو معنویت کا روپ دینے کی اعلیٰ ترین صورت ہے جس کا اختیار معلوم کائنات میں صرف انسان کو حاصل ہے۔ ایک حقیقی قول سب سے زیادہ لطیف اور سب سے زیادہ با معنی واقعہ ہے۔ قول آدمی کی ہستی کا سب سے بڑا اظہار ہے۔ قول گویا ایک ناطق عمل ہے۔ اس لئے جب کوئی شخص قول کی سطح پر اپنی عبدیت کا ثبوت دے دے تو وہ جنت کا یقینی استحقاق حاصل کر لیتا ہے۔ سچا قول بلاشبہ سب سے بڑا عمل ہے۔ انسان جیسی ایک آزاد اور با اختیار مخلوق کی زبان سے ایک حقیقی کلمہ اعتراف اتنا عظیم ہے کہ زمین و آسمان کی عظمت بھی اس کے برابر نہیں ہو سکتی۔ اس قسم کا ایک قول بندے کی طرف سے اپنے رب کے لئے ایک نادر تحفہ ہے۔ اور جنت اسی نادر تحفہ کا خدائی انعام۔ 6-022 قانون التباس منکرین کے ایک مطالبہ کے جواب میں قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اور وہ کہتے ہیں کہ پیغمبر کے اوپر فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا۔ اور اگر ہم کوئی فرشتہ اتارتے تو معاملہ کا فیصلہ ہو جاتا پھر انھیں کوئی مہلت نہ ملتی۔ اور اگر ہم کسی فرشتہ کو رسول بنا کر بھیجتے تو اس کو بھی آدمی بناتے اور ان کو اسی شبہہ میں ڈال دیتے جس میں وہ اب پڑے ہوئے ہیں۔ (الانعام ۸-۹) پیغمبر کے معاصرین نے پیغمبر سے کہا کہ آپ کا دعویٰ ہے کہ آپ کے پاس خدا کا فرشتہ خدا کی وحی لے کر آتا ہے تو یہ فرشتہ پوشیدہ طور پر کیوں آتا ہے، اس کو علانیہ طور آپ کے پاس آنا چاہئے تاکہ ہم اس کو دیکھیں اور پھر آپ پر ایمان لانا ہمارے لئے آسان ہو جائے۔ اس کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader