Urdu book · مطالعہ قرآن

جنت کی قیمت

Urdu book, p. 61

By Maulana Wahiduddin Khan

جواب میں کہا گیا کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ اس دنیا میں انسان کا امتحان یہ ہے کہ وہ غیب کی حالت میں رہتے ہوئے ایمان لائے۔ خدا کو وہ ایمان مطلوب ہی نہیں جو سب کچھ دیکھ لینے کے بعد وجود میں آیا ہو۔ اس سنتِ الہی کی بنا پر موجودہ دنیا میں ہر چیز کے ساتھ ایک شبہ کا عنصر (element of doubt) شامل رکھا گیا ہے۔ خدا کا طریقہ یہ ہے کہ انسان کو حقیقتیں غیر برہنہ صورت میں دکھائی جائیں۔ اور پھر وہ اپنی عقل اور بصیرت کو استعمال کرتے ہوئے ان کو برہنہ صورت میں دریافت کرے اور ان پر ایمان لائے۔ اس دنیا میں دعوتِ حق کا سارا معاملہ خدا کے قانونِ التباس پر مبنی ہے۔ یہاں حق کے اوپر شبہ کا ایک پہلو ہمیشہ باقی رہتا ہے تاکہ آدمی اقرار کے دلائل کے ساتھ کچھ انکار کے وجوہ بھی پا سکتا ہو۔ آدمی کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اس شبہ کے پردے کو پھاڑ کر اپنے کو یقین کے مقام پر پہنچائے۔ وہ شبہ کے پہلوؤں کو حذف کر کے یقین کے پہلوؤں کو لے لے۔ آدمی کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ دیکھے بغیر مانے۔ جب حقیقت کو دکھا دیا جائے تو اس کے بعد ماننے کی کوئی قیمت نہیں۔ انسان موجودہ کائنات میں ایک غیر معمولی قسم کی مخلوق ہے۔ اس کو استثنائی طور پر عقل اور تمیز کی صلاحیت دی گئی ہے۔ وہ اپنی بصیرت سے حق اور ناحق کے درمیان فرق کر سکتا ہے۔ وہ یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ ظاہر میں باطن کو دریافت کرے۔ وہ دیکھے بغیر ان چیزوں کو جان لے جو بظاہر دکھائی نہیں دیں۔ انسان کی یہ خصوصی صلاحیت اس کی آزمائش کے عین مطابق ہے۔ اس دنیا میں انسان سے عین وہی امتحان لیا جا رہا ہے جس کا اہل بنا کر اس کو پیدا کیا گیا۔ ایسی حالت میں حقیقتوں کے ساتھ شبہ کا عنصر ہونا انسان کے لئے کوئی عذر نہیں۔ اس کو بہر حال یہ کرنا ہے کہ شبہ کے باوجود حقیقتوں کو پہچانے۔ جو آدمی اس امتحان میں ناکام ہو جائے اس کو کوئی بھی چیز آخرت کی پکڑ سے بچانے والی نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page