Urdu book · مطالعہ قرآن

مطالعہ قرآن

Urdu book, p. 62

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ امتحان سب سے زیادہ داعیٔ حق کے معاملے میں ہوتا ہے۔ حق کا داعی ہمیشہ اپنے ہم زمانہ لوگوں کو ایک عام انسان کے روپ میں دکھائی دیتا ہے۔ اس کی یہ تصویر لوگوں کو اکثر شبہ میں مبتلا رکھتی ہے۔ داعی کی زندگی اور اس کے کلام میں واضح طور پر یہ ثبوت ہوتا ہے کہ وہ حق کا داعی ہے لیکن لوگ شبہات میں پڑ کر اس کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ داعیٔ حق کے ساتھ اس کے معاصرین کا یہ سلوک بلاشبہ ایک نا قابلِ معافی جرم ہے، کوئی بھی عذر انہیں اس کو تاہی سے بری الذمہ کرنے والا نہیں۔ 6-023 نتیجہ کی اہمیت قرآن میں اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: اور اللہ کے سوا جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں ان کو گالی نہ دو ورنہ یہ لوگ حد سے گزر کر جہالت کی بنا پر اللہ کو گالیاں دینے لگیں گے۔ اسی طرح ہم نے ہر گروہ کی نظر میں اس کے عمل کو خوشنما بنا دیا ہے۔ پھر ان سب کو اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے۔ اس وقت اللہ انہیں بتا دے گا جو وہ کرتے تھے۔ (الانعام ۱۰۸) اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں ایک ایسا کام کرنا جائز نہیں جو بظاہر درست نظر آئے مگر وہ الٹا نتیجہ پیدا کرنے والا (counter-productive) ہو ۔ کسی اقدام کے وقت صرف اس کی اصولی حیثیت نہیں دیکھی جائے گی بلکہ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ عملی طور پر اس کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ اگر عملی نتیجہ الٹی صورت میں نکلے تو فرض کے درجہ میں ضروری ہوگا کہ اہل ایمان اس سے مکمل طور پر پر ہیز کریں۔ مشرکین کے بتوں یا ان کے مذہبی اکابر کو برا کہا جائے تو بظاہر یہ کوئی غلط بات نہیں۔ لیکن کوئی گروہ جب لمبی مدت سے ایک عمل کو مقدس سمجھ کر کر رہا ہو تو اس کے ساتھ اس کی عصبیتیں جڑ جاتی ہیں۔ ایسی حالت میں اگر اہل ایمان ان کو برا کہیں تو وہ مشتعل ہو جائیں گے اور جذبات سے مغلوب ہو کر اسلامی شخصیتوں، حتی کہ خود خدا کو برا کہنے لگیں گے۔ اس لئے اہل ایمان کو چاہئے کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page