نتیجہ کی اہمیت
Urdu book, p. 63
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ اس قسم کی برائی پیدا کرنے کا سبب نہ بنیں۔ ممانعت کا یہ حکم تنقیص یا سب وشتم کے لئے ہے۔ جہاں تک دلیل پر مبنی تنقید و تجزیہ کا تعلق ہے، وہ اسلام میں نہ صرف جائز بلکہ مطلوب ہے۔ قرآن میں اور رسول اللہ کے کلام میں اس کے واضح نمونے موجود ہیں۔ زندہ انسان قرآن میں ہدایت پائے ہوئے لوگوں کے بارے میں ارشاد ہوا ہے: کیا وہ شخص جو مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندگی دی اور ہم نے اس کو ایک روشنی دی کہ اس کے ساتھ وہ لوگوں میں چلتا ہے وہ اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہے، وہ اس سے نکلنے والا نہیں۔ اس طرح منکروں کی نظر میں ان کے اعمال خوش نما بنا دیئے گئے ہیں۔ (الانعام (۱۲۲) اس آیت میں مومن اور غیر مومن کا فرق زندہ انسان اور مردہ انسان کی مثال کے ذریعہ بتایا گیا ہے۔ جس آدمی کو حق نہ ملا ہو اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ غیر حقیقی افکار اور تعصبات میں گھرا ہوتا ہے۔ حق بات سامنے آئے تو وہ حق پر غور کرنے کے بجائے اس کو پیش کرنے والے کی شخصیت کو دیکھے گا اور جب وہ اس کو غیر اہم نظر آئے گی تو وہ اس کی بات کو نظر انداز کر دے گا۔ اس طرح اس کے ذہن پر اپنے مادی مفادات کا غلبہ ہوگا جب اس کو دکھائی دے گا کہ حق کا ساتھ دینے میں اس کے مفادات مجروح ہو رہے ہیں تو وہ مفادات کو بڑی چیز سمجھ کر لے لے گا اور حق کو چھوٹی چیز سمجھ کر اسے چھوڑ دے گا۔ ایک خاص گروہ سے لمبی مدت تک وابستہ رہنے کی بنا پر وہ متعصبانہ حد تک اس سے جڑ جائے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جب کسی اور گروہ سے اس کا تعارف ہو گا تو خواہ وہ کتنا ہی بر حق ہو مگر اپنے گروہ کے مقابلے میں دوسرے گروہ کی صداقت اس کو نظر نہ آئے گی۔ یہ تقریباً وہی حالت ہے جس کو مقید سوچ (conditioned thinking) کہا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader