مطالعہ قرآن
Urdu book, p. 64
By Maulana Wahiduddin Khan
آدمی لمبی وابستگی کے بعد ایک خاص روش سے اتنا زیادہ مانوس ہو جاتا ہے کہ وہ بس اسی میں جینے لگتا ہے۔ اس کے باہر کسی چیز کی اہمیت اسے نظر نہیں آتی۔ یہی وہ شخص ہے جس کو قرآن میں مردہ انسان کہا گیا ہے۔ ایسا انسان حیاتیاتی اعتبار سے زندہ مگر وہ شعور کے اعتبار سے مردہ ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں دوسرا انسان وہ ہے جس کی فطرت ابھی زندہ تھی اس کے سامنے حق آیا تو اس نے کھلے ذہن سے اس پر غور کیا۔ یہاں تک کہ حق اس کے قلب اور روح میں اتر گیا۔ حق کو پانے کے بعد اس کا حال ایسا ہو جیسے ایک سوکھا درخت پانی ملنے کے بعد ہرا بھرا ہو جائے۔ حق نے اس کو حیوان کی سطح سے بلند کر کے حقیقی انسان کی سطح پر پہنچادیا۔ اب اس کا حال یہ ہو گیا کہ اس کی پوری زندگی حق کی روشنی میں گزرنے لگی۔ ایک طرف اس کا ذہن صحیح سمت میں ارتقاء کرنے لگا۔ صبح وشام کے روحانی تجربات اس کی شخصیت کی مثبت تعمیر کرنے لگے۔ اس کی زندگی با اصول انسان کی زندگی بن گئی۔ دوسری طرف وہ اپنے ماحول میں ایک روشنی کی مانند بن گیا۔ وہ لوگوں کو حق کا راستہ دکھانے لگا۔ اس کو ایک ایثار بانی مشن مل گیا جس کے لئے وہ اپنی ساری عمر کام کرتا رہے۔ اس تقسیم میں پہلا انسان گویا ایک مردہ انسان ہے، اور دوسرا انسان حقیقی معنوں میں ایک زندہ انسان۔ جو آدمی حیوانیت کی سطح پر جئے وہ آدمیت کی حیثیت سے ایک مردہ انسان بن گیا۔ اور جو آدمی حیوانیت سے بلند ہو کر انسانیت کی سطح پر جی رہا ہو، وہی اس قابل ہے کہ اس کو حقیقی معنوں میں زندہ انسان کہا جائے۔ 6-025 ہدایت اور ضلالت ہدایت اور گمراہی کا اصول قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: اللہ جس کو چاہتا ہے کہ ہدایت دے تو اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے۔ اور جس کو چاہتا ہے کہ گمراہ کرے تو اس کے سینہ کو بالکل تنگ کر دیتا ہے، جیسے کہ اس کو آسمان پر چڑھنا پڑ رہا ہو۔ اس طرح اللہ گندگی ڈال

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader