ہدایت اور ضلالت
Urdu book, p. 65
By Maulana Wahiduddin Khan
دیتا ہے ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے ۔ (الأنعام (۱۲۵) اس آیت میں بظاہر ہدایت اور ضلالت کو خدا کی طرف منسوب کیا گیا ہے مگر حقیقتہ اس کی نسبت انسانی فطرت کی طرف ہے جو ہر ایک کو خدا کی طرف سے ملی ہوئی ہے۔ جو آدمی اپنی فطرت کو اس کی اصل حالت پر باقی رکھے اس کے لئے اس کی فطرت ایک خدائی رہنما بن جائے گی۔ اس کے برعکس جو آدمی اپنی فطرت کو بگاڑ دے یا اس کو کند کر ڈالے وہ فطرت کی رہنمائی سے محروم ہو کر گمراہیوں میں بھٹکتا رہے گا۔ حق اپنی ذات میں اتنا واضح ہے کہ اس کا سمجھنا کبھی کسی آدمی کے لئے مشکل نہیں ہو سکتا۔ پھر بھی ہر زمانہ میں بے شمار لوگ حق کی وضاحت کے باوجود حق کو قبول نہیں کرتے۔ اس کی وجہ ان کے اندر کی وہ رکاوٹیں ہیں جو وہ اپنی نفسیات میں پیدا کر لیتے ہیں۔ کوئی اپنے آپ کو مقدس ہستیوں سے اتنا زیادہ وابستہ کر لیتا ہے کہ ان کو چھوڑتے ہوئے۔ اسے اس کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ بالکل برباد ہو جائے گا۔ کسی کا حال یہ ہوتا ہے کہ اپنی مصلحتوں کا نظام ٹوٹنے کا اندیشہ اس کے اوپر اتنا زیادہ چھا جاتا ہے کہ اس کے لئے حق کی طرف اقدام کرنا ممکن نہیں رہتا۔ کسی کو نظر آتا ہے کہ حق کو ماننا اپنی بڑائی کے مینار کو اپنے ہاتھ سے ڈھا دینا ہے۔ کسی کو محسوس ہوتا ہے کہ ماحول کے رواج کے خلاف ایک بات کو اگر میں نے مان لیا تو میں سارے ماحول میں اجنبی بن کر رہ جاؤں گا۔ اس طرح کے خیالات آدمی کے اوپر اتنا مسلط ہو جاتے ہیں کہ حق کو ماننا اس کو ایک بے حد مشکل بلندی پر چڑھائی کے ہم معنی نظر آنے لگتا ہے جس کو دیکھ کر ہی آدمی کا دل تنگ ہونے لگتا ہے۔ اس کے برعکس معاملہ ان لوگوں کا ہے جو نفسیاتی پیچیدگیوں میں مبتلا نہیں ہوتے، جو حق کو ہر دوسری چیز سے اعلیٰ سمجھتے ہیں۔ وہ پہلے سے بچے متلاشی بنے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس لئے جب حق ان کے سامنے آتا ہے تو بلا تاخیر وہ اس کو پہچان لیتے ہیں۔ تمام عذرات اور اندیشوں کو نظر انداز کر کے وہ اس کو قبول کر لیتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader