مطالعہ قرآن
Urdu book, p. 66
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا اپنے حق کو نشانیوں (اشاراتی حقائق) کی صورت میں لوگوں کے سامنے لاتا ہے۔ اب جو لوگ اپنے دلوں میں کمزوریاں لئے ہوئے ہیں وہ ان اشارات کی خود ساختہ تاویل کر کے اپنے لئے اس کو نہ ماننے کا جواز بنا لیتے ہیں۔ اور جن لوگوں کے سینے کھلے ہوتے ہیں وہ اشارات کو ان کی اصل گہرائیوں کے ساتھ پا لیتے ہیں۔ اور ان کو اپنے ذہن کی غذا بنا لیتے ہیں۔ ان کی زندگی فی الفور اس سیدھے راستہ پر چل پڑتی ہے جو خدا کی براہ راست رہنمائی میں طے ہوتا ہے اور بالآخر آدمی کو ابدی کامیابی کے مقام پر پہنچا دیتا ہے۔ 6-026 حجت بالغه قرآن میں ارشاد ہوا ہے: جنھوں نے شرک کیا وہ کہیں گے کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا کرتے اور نہ ہم کسی چیز کو حرام کر لیتے۔ اس طرح جھٹلایا ان لوگوں نے بھی جو ان سے قبل ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ انھوں نے ہمارا عذاب چکھا۔ کہو کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے جس کو تم ہمارے سامنے پیش کرو۔ تم تو صرف گمان کی پیروی کر رہے ہو اور محض اٹکل سے کام لیتے ہو۔ کہو کہ حجت بالغہ (دلیل محکم) تو اللہ کی ہے۔ اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا۔ (الانعام ۱۲۸-۱۲۹) موجودہ دنیا کو اس کے خالق نے اس طرح بنایا ہے کہ یہاں حقیقی دلیل صرف توحید کے لئے ہو، شرک والحاد کے لئے اس دنیا میں ظن وقیاس کے سوا کوئی اور چیز نہ پائی جائے۔ انسان کی پوری فکری تاریخ قرآن کے اس بیان کی تصدیق کرتی ہے۔ مثلاً کچھ لوگوں نے شرک کا عقیدہ گھڑا اور اس کے ثبوت میں یہ کہا کہ دنیا کے مظاہر میں جب تعدد ہے تو اس دنیا کا خدا بھی کئی ہونا چاہئے۔ لیکن جب انسانی علم بڑھا اور دنیا کے بارے میں زیادہ واقفیت حاصل ہوئی تو معلوم ہوا کہ یہ تعدد محض ظاہری ہے۔ دنیا کی تمام مختلف چیزیں آخر کار ایک ہی مادی اکائی (ایٹم) سے تشکیل پا کر بنیں۔ حتیٰ کہ پوری وسیع کائنات ایک ہی فطری قانون

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader