مطالعہ قرآن
Urdu book, p. 68
By Maulana Wahiduddin Khan
کردیں گے۔ یہ اللہ نے تم کو حکم دیا ہے تاکہ تم بچتے رہو۔ (الانعام ۱۵۱- ۱۵۳) یہ باتیں جو ان آیتوں میں بیان کی گئی ہیں وہ قرآن کے مطابق، خدا کے صراط مستقیم کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اہل دین کو چاہئے کہ وہ انھیں باتوں پر سب سے زیادہ زور دیں۔ اس کے علاوہ دوسری باتوں پر زور دینا گویا شاہراہ سے ہٹ کر اطراف کے چھوٹے راستوں میں بھٹکنا ہے۔ اور جو لوگ ادھر ادھر کے راستوں میں بھٹک جائیں وہ منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتے۔ 6-028 فرق برائے امتحان قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اور وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں ایک دوسرے کا جانشین بنایا اور تم میں سے ایک کا رتبہ دوسرے پر بلند کیا۔ تاکہ وہ آزمائے تم کو اپنے دئے ہوئے میں۔ تمہارارب جلد سزا دینے والا ہے اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (الانعام ۱۶۵) دنیا میں ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان برابری نہیں، سیاسی اعتبار سے بھی اور غیر سیاسی اعتبار سے بھی۔ یہ نابرابری خدا کے تخلیقی نقشہ کی بنا پر ہے، وہ کوئی خرابی یا برائی نہیں ہے۔ نابرابری کا یہ نظام نہ ہو تو لوگوں کی آزمائش نہیں کی جاسکتی۔ اسی نابرابری کی وجہ سے وہ تمام حالات پیدا ہوتے ہیں جو لوگوں کے لئے آزمائش کا پرچہ بن سکیں۔ دنیا کا نظام یہ ہے کہ یہاں ایک شخص جاتا ہے اور دوسرا اس کی جگہ آتا ہے۔ ایک قوم پیچھے ہٹادی جاتی ہے اور دوسری قوم اس کے بجائے زمین کے ذرائع و وسائل پر قبضہ کر لیتی ہے۔ یہ واقعہ بار بار یاد دلاتا ہے کہ یہاں کسی کا اقتدار دائمی نہیں۔ مگر انسان کا حال یہ ہے کہ جب کسی کو زمین پر موقع ملتا ہے تو وہ گزرے ہوئے لوگوں کے انجام کو بھول جاتا ہے۔ وہ اپنے ظلم اور سرکشی کو جائز ثابت کرنے کے لئے طرح طرح کے دلائل گھڑ لیتا ہے۔ مگر جب خدا حقیقتوں کو برہنہ کرے گا تو آدمی دیکھے گا کہ اس کی ان باتوں کی کوئی قیمت نہ تھی جن کو وہ اپنے موقف کے جواز کے لئے مضبوط دلیل سمجھے ہوئے تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader