مطالعہ قرآن
Urdu book, p. 69
By Maulana Wahiduddin Khan
دنیا میں آدمی کی سرکشی کی وجہ اکثر یہ ہوتی ہے کہ وہ دنیا کی چیزوں کو اپنے حق میں خدا کا انعام سمجھ لیتا ہے۔ حالانکہ دنیا میں جو کچھ کسی کو ملتا ہے وہ صرف بطور آزمائش ہے نہ کہ بطور انعام۔ دنیا کی چیزوں کو آدمی اگر انعام سمجھے تو اس کے اندر فخر پیدا ہوگا اور اگر وہ ان کو آزمائش سمجھے تو اس کے اندر عجز پیدا ہوگا۔ فخر کی نفسیات سرکشی پیدا کرتی ہے اور عجز کی نفسیات اطاعت۔ 7-029 شیطان کی پیروی قرآن میں انسان کی تخلیق کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: اور ہم نے تم کو پیدا کیا، پھر ہم نے تمہاری صورت بنائی۔ پھر فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو۔ پس انھوں نے سجدہ کیا۔ مگر ابلیس سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا۔ خدا نے کہا کہ تجھے کس چیز نے سجدہ کرنے سے روکا جب کہ میں نے تجھ کو حکم دیا تھا۔ ابلیس نے کہا کہ میں اس سے بہتر ہوں۔ تو نے مجھ کو آگ سے بنایا ہے اور آدم کو مٹی سے۔ خدا نے کہا کہ تو اتر یہاں سے۔ تجھے یہ حق نہیں کہ تو اس میں گھمنڈ کرے ۔ پس نکل جا، یقینا تو ذلیل ہے۔ ابلیس نے کہا کہ اس دن تک کے لئے تو مجھے مہلت دے جب کہ سب لوگ اٹھائے جائیں گے۔ خدا نے کہا کہ تجھ کو مہلت دی گئی۔ ابلیس نے کہا کہ چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں بھی لوگوں کے لئے تیری سیدھی راہ پر بیٹھوں گا۔ پھر ان پر آؤں گا ان کے آگے سے ان کے پیچھے سے اور ان کے دائیں سے اور ان کے بائیں سے، اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا۔ خدا نے کہا کہ نکل یہاں سے ذلیل اور ٹھکرایا ہوا جو کوئی ان میں سے تیری راہ پر چلے گا تو میں تم سب سے جہنم کو بھر دوں گا۔ (الاعراف ۱۱۔۱۸) خدا نے انسان کو اس دنیا میں جو کچھ دیا ہے اس لئے دیا ہے کہ اس کا نفسیاتی جواب وہ شکر کی صورت میں پیش کرے۔ مگر یہی وہ چیز ہے جس کو آدمی اپنے رب کے سامنے پیش نہیں کرتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شیطان اس کے اندر دوسرے جذبات ابھار کر اس کو شکر کی نفسیات سے دور کر دیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader