جمع و تدوین
Urdu book, p. 7
By Maulana Wahiduddin Khan
وحی کتابت کے عمل میں مصروف رہتے تھے۔ اور دوسری طرف ہزاروں کی تعداد میں آپ کے ایسے اصحاب تھے جو قرآن کو لفظ بہ لفظ یاد کر لیتے تھے۔ واضح ہو کہ دورِ پریس سے پہلے دنیا بھر میں چیزوں کو یاد رکھنے کا رواج تھا اس لئے کثرتِ استعمال کی بنا پر اس زمانہ کے لوگوں کے حافظے بہت اچھے ہوا کرتے تھے۔ مثال کے طور پر قدیم عرب میں ایسے ہزاروں لوگ تھے جن کو لمبے لمبے نسب نامے اور بڑے بڑے قصیدے زبانی یاد تھے۔ اور وہ ان کو اپنے حافظہ کی مدد سے مجلسوں میں پڑھا کرتے تھے۔ اس طرح قرآن حسبِ موقع اترتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے کچھ پہلے مکمل ہو گیا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی آخر عمر میں جب کہ قرآن کے تمام حصے اتر چکے تھے، خدا کے حکم سے جبریل آپ کے پاس آئے۔ انھوں نے قرآن کے تمام نازل شدہ حصوں کو موجودہ مصحف کے مطابق ترتیب دیا۔ اور پھر مکمل قرآن سورہ فاتحہ سے لے کر سورہ الناس تک سلسلہ وار پڑھ کر سنایا۔ اور پھر اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے قرآن کو اسی طرح سلسلہ وار پڑھ کر سنایا۔ اس طرح جبریل کے سامنے مکمل قرآن پڑھنے کا واقعہ دو بار ہوا۔ پہلے کو عرضہ اولیٰ کہا جاتا ہے اور دوسری بار پڑھے جانے کو عرضہ اخیرہ۔ ۶۳۲ ء میں پیغمبر اسلام ﷺ کی وفات ہوئی تو اس وقت قرآن ہر اعتبار سے محفوظ اور مکمل ہو چکا تھا۔ البتہ وہ ایک مجلد کتاب کی صورت میں اب تک جمع نہیں ہوا تھا۔ یہ آخری کام خلیفہ اول ابو بکر صدیق کی ہدایت کے تحت انجام پایا۔ خلیفہ اول نے اس مقصد کے لئے زید بن ثابت انصاری کو مقرر کیا جو اس خاص کام کے لئے صحابہ میں سب سے زیادہ اہل سمجھے جاتے تھے۔ حضرت زید بن ثابت نے اس کام کے لئے وہ آخری اہتمام کیا جو کسی انسان کے لئے ممکن ہو سکتا تھا۔ انھوں نے اعلان کیا کہ لوگوں کے پاس قرآن کے لکھے ہوئے جتنے اجزاء ہیں وہ سب کے سب لائے جائیں۔ چنانچہ سب کے سب کتابت شدہ اجزاء حضرت زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دئیے گئے۔ وہ خود قرآن کے مکمل حافظ تھے۔ تاہم انہوں نے مزید احتیاط کے لئے کچھ اور حفاظ کو اپنی مدد کے لئے مقرر کیا۔ اب وہ عمل شروع ہوا جس کو ایک مستشرق نے بجاطور پر چیکنگ کا دہر طریقہ (dub-

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader