مطالعہ قرآن
Urdu book, p. 70
By Maulana Wahiduddin Khan
آدم اور ابلیس کے قصہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں ہدایت اور گمراہی کا معرکہ کہاں برپا ہوتا ہے۔ یہ معرکہ ان مواقع پر برپا ہے جہاں آدمی کے اندر حسد اور گھمنڈ کی نفسیات جاگتی ہیں۔ امتحان کی اس دنیا میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی سے اوپر اٹھ جاتا ہے۔ کبھی کوئی شخص دولت و عزت میں دوسرے سے زیادہ حصہ پاللیتا ہے۔ کبھی دو آدمیوں کے درمیان ایسا معاملہ پڑتا ہے کہ ایک شخص کے لئے دوسرے کو اس کا جائز حق دینا اپنے کو نیچے گرانے کے ہم معنی نظر آتا ہے۔ کبھی کسی شخص کی زبان سے خدا ایک سچائی کا اعلان کراتا ہے اور لوگوں کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کا اعتراف کرنا اس کے مقابلہ میں اپنے کو چھوٹا کرنے کے ہم معنی ہے۔ ایسے مواقع پر شیطان آدمی کے اندر حسد اور گھمنڈ کی نفسیات جگا دیتا ہے۔ ”میں بہتر ہوں“ کے احساس کی بنا پر وہ دوسرے کے فضل کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ یہی خدا کی نظر میں شیطان کے راستہ پر چلنا ہے۔ جس شخص نے ایسے مواقع پر حسد اور گھمنڈ اور بے اعترانی کا طریقہ اختیار کیا۔ اس نے اپنے کو جہنمی انجام کا مستحق بنالیا جو شیطان کے لئے مقدر ہے اور جس نے ایسے مواقع پر شیطان کے پیدا کئے ہوئے جذبات کو اپنے اندر کچل ڈالا اس نے اس بات کا ثبوت دیا کہ وہ اس قابل ہے کہ اس کو جنت کے باغوں میں بسایا جائے۔ اس دنیا میں جو کچھ کسی کو ملتا ہے وہ خدا کی طرف سے ملتا ہے۔ اس لئے کسی کی فضیلت کا اعتراف در اصل خدا کی تقسیم کے برحق ہونے کا اعتراف ہے اور اس کی فضیلت کو نہ ماننا خدا کی تقسیم کو نہ ماننا ہے۔ اس طرح جب ایک شخص کسی حق کی بنا پر دوسرے کے آگے جھکتا ہے تو وہ کسی آدمی کے آگے نہیں جھکتا بلکہ خدا کے آگے جھکتا ہے۔ کیوں کہ ایسا وہ خدا کے حکم کی بنا پر کر رہا ہے نہ کہ اس آدمی کے ذاتی فضل کی بناپر۔ شکر تمام نیکیوں کی جڑ ہے اور کبر تمام برائیوں کی جڑ۔ یہی وجہ ہے کہ شکر سب سے بڑی عبادت ہے اور کبر سب سے بڑا گناہ۔ 7-030 پیغمبر صالح کی مثال حضرت صالح ایک پیغمبر تھے جو قوم ثمود کی طرف بھیجے گئے۔ قوم ثمود نے حضرت صالح

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader