مطالعہ قرآن
Urdu book, p. 71
By Maulana Wahiduddin Khan
کے ساتھ سرکشی کی۔ اس سلسلے میں قرآن میں ارشاد ہوا ہے: پھر انھوں نے اونٹنی کو کاٹ ڈالا اور اپنے رب کے حکم سے پھر گئے۔ اور انھوں نے کہا، اے صالح اگر تم پیغمبر ہو تو وہ عذاب ہم پر لے آؤ جس سے تم ہم کو ڈراتے تھے۔ پھر انھیں زلزلہ نے آپکڑا اور وہ اپنے گھر میں اوندھے منہ پڑے رہ گئے۔ اور صالح یہ کہتے ہوئے ان کی بستی سے نکل گئے کہ اے میری قوم، میں نے تم کو اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا اور میں نے تمہاری خیر خواہی کی مگر تم خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتے (الاعراف ۷۸-۷۹) حضرت صالح کی اونٹنی کو مارنے والا اگرچہ قوم کا صرف ایک سرکش آدمی تھا۔ مگر یہاں اس کو پوری قوم کی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا ”ان لوگوں نے اونٹنی کو ہلاک کر دیا‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ کسی گروہ کا ایک شخص برا عمل کرے اور دوسرے لوگ اس کے برے فعل پر راضی رہیں تو سب کے سب اس مجرمانہ فعل میں شریک قرار دئے جاتے ہیں۔ جو قوم خواہش پرستی کا شکار ہو اس کو حقیقت پسندی کی باتیں اپیل نہیں کرتیں۔ وہ ایسے شخص کا ساتھ دینے کے لئے تیار نہیں ہوتی جو اس کو سنجیدہ عمل کی طرف بلاتا ہو۔ اس کے برعکس جو لوگ خوش نما الفاظ بولیں اور جھوٹی امیدوں کی تجارت کریں ان کے گرد بھیڑ کی بھیڑ جمع ہو جاتی ہے۔ سچے خیر خواہ کے لئے اس کے اندر کوئی کشش نہیں ہوتی۔ البتہ ان لوگوں کی طرف وہ تیزی سے دوڑ پڑتی ہے جو اس کا استحصال کرنے کے لئے اٹھے ہوں۔ یہی مطلب ہے حضرت صالح کے اس قول کا کہ میں نے تمہارے ساتھ خیر خواہی کی مگر تم خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتے۔ 7-031 غفلت، گمراہی کا سبب قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اور ہم نے جنات اور انسان میں سے بہتوں کو دوزخ کے لئے پیدا کیا ہے۔ ان کے دل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں، ان کے آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader