Urdu book · مطالعہ قرآن

مطالعہ قرآن

Urdu book, p. 72

By Maulana Wahiduddin Khan

ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں۔ وہ ایسے ہیں جیسے چوپائے بلکہ ان سے بھی زیادہ بے راہ۔ یہی لوگ ہیں غافل۔(الاعراف-۱۷۹) اس آیت میں ہدایت اور گمراہی کا فطری قانون بتایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو آنکھ اور کان دئے ہیں جن کے ذریعہ وہ معلومات حاصل کرے۔ اسی کے ساتھ اللہ نے ہر انسان کو ذہن دیا جس کے ذریعہ وہ باتوں کو سمجھے اور حق اور باطل کے درمیان تمیز کرے۔ لیکن جو لوگ غفلت میں پڑ جائیں ان کو کوئی چیز ہدایت دینے والی نہیں۔ سچائی ایک ایسی چیز ہے جسے ہر آدمی کو خود پانا ہے۔ خدا نے ہر آدمی کو دل اور آنکھ اور کان دئے ہیں۔ آدمی انہی صلاحیتوں کو استعمال کر کے سچائی کو پاتا ہے۔ اور جو شخص ان صلاحیتوں کو استعمال نہ کرے وہ یقیناً سچائی کو پانے سے محروم رہے گا، خواہ سچائی اس سے کتنا زیادہ قریب موجود ہو۔ سچائی کو پانا ہر آدمی کا ایک شعوری اور ارادی فعل ہے۔ سچائی کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے جس نے اپنے دل کے دروازے اس کے لئے کھلے رکھے ہوں۔ اس کو وہی دیکھ سکتا ہے جس نے اپنی آنکھوں پر مصنوعی پردے نہ ڈالے ہوں۔ اس کی آواز اسی کو سنائی دے سکتی ہے جس نے اپنے کان میں کسی قسم کے ڈاٹ نہ لگا رکھے ہوں۔ ایسے لوگ سچائی کی آواز کو پہچان کر اس کے آگے اپنے کو ڈال دیں گے۔ اور جس شخص کا معاملہ اس کے برعکس ہو وہ چوپایوں کی طرح نا سمجھ بنارہے گا۔ پہاڑ جیسے دلائل کا وزن محسوس کرنا بھی اس کے لئے ممکن نہ ہوگا۔ اس کے سامنے خدا کی تجلیاں ظاہر ہوں گی مگر وہ اس کو دیکھنے سے عاجز ہوگا۔ اس کے پاس خدا کا نغمہ چھیڑا جائے گا مگر وہ اس کو سننے سے محروم رہے گا۔ سچائی ہمیشہ بیدار لوگوں کو ملتی ہے۔ غافلوں کے لئے کوئی سچائی نہیں۔ 7-032 شیطان کی وسوسہ اندازی قرآن میں ارشاد ہوا ہے: درگزر کرو۔ نیکی کا حکم دو اور جاہلوں سے نہ الجھو۔ اور اگر تم کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page