مطالعہ قرآن
Urdu book, p. 73
By Maulana Wahiduddin Khan
کوئی وسوسہ شیطان کی طرف سے آئے تو اللہ کی پناہ چاہو۔ بے شک وہ سننے والا جاننے والا ہے۔(الاعراف ۱۹۹۔ ۲۰۰) اس آیت میں داعی کا کردار بتایا گیا ہے۔ داعی پر لازم ہے کہ وہ مدعو کے مقابلے میں ہمیشہ اعراض اور عفو و درگزر کا طریقہ اختیار کرے۔ اس کے بغیر دعوت کا کام معتدل انداز میں انجام نہیں پا سکتا۔ اگر کبھی ایسا ہو کہ مدعو کی طرف سے کسی ناخوش گوار رویہ پر داعی کے اندر انتقامی جذبہ بھڑک اٹھے تو ایسے جذبہ کو سراسر شیطانی وسوسہ سمجھنا چاہئے اور اللہ سے توفیق مانگنا چاہئے کہ اس کے سینہ کو اس قسم کے منفی جذبہ سے پاک کردے۔ 7-033 حساسیت ڈھال ہے قرآن میں ارشاد ہوا ہے: جو لوگ ڈر رکھتے ہیں جب کبھی شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال انھیں چھو جاتا ہے تو وہ فوراً چونک پڑتے ہیں اور پھر اسی وقت ان کو سوجھ آ جاتی ہے۔ اور جو لوگ شیطان کے بھائی ہیں وہ ان کی گمراہی میں کھنچے چلے جاتے ہیں پھر وہ کمی نہیں کرتے۔ (الاعراف ۲۰۱۔۲۰۲) متقیانہ حساسیت اس دنیا میں سب سے بڑا چیک ہے۔ آدمی کے اندر اگر یہ حساسیت ہو تو وہ برائیوں سے محفوظ رہے گا اور اگر یہ حساسیت نہ ہو تو کوئی بھی دوسری چیز اس کو برائیوں سے بچانے والی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں ہر شخص نفس اور شیطان کے حملوں کی زد میں ہے۔ ایسی حالت میں جو چیز آدمی کو بچانے والی ہے وہ صرف اللہ کا ڈر ہے۔ اللہ کا ڈر آدمی کو بے حد حساس بنا دیتا ہے۔ یہی حساسیت موجودہ امتحان کی دنیا میں آدمی کی سب سے بڑی ڈھال ہے۔ جب بھی آدمی کے اندر کوئی غلط خیال آتا ہے یا کسی قسم کی منفی نفسیات ابھرتی ہے تو اس کی حساسیت فوراً اس کو بتا دیتی ہے کہ وہ پھسل گیا ہے۔ ایک لمحہ کی غفلت کے بعد اس کی آنکھ کھل جاتی ہے اور وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader