Urdu book · مطالعہ قرآن

مطالعہ قرآن

Urdu book, p. 74

By Maulana Wahiduddin Khan

اللہ سے معافی مانگتے ہوئے دوبارہ اپنے کو درست کر لیتا ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ اللہ کے ڈر سے خالی ہوتے ہیں ان کے اندر شیطان داخل ہو کر اپنا کام کرتا رہتا ہے۔ ان کو محسوس بھی نہیں ہو تا کہ وہ شیطان کے ساتھی بن کر کسی تباہ کن گڑھے کی طرف چلے جا رہے ہیں۔ حساسیت آدمی کی سب سے بڑی محافظ ہے جب کہ بے حسی آدمی کو شیطان کے مقابلہ میں آخری حد تک غیر محفوظ بنا دیتی ہے۔ 8-034 مومن کی صفات قرآن میں ارشاد ہوا ہے : ایمان والے لوگ وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل دہل اٹھیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کے سامنے پڑھی جائیں تو وہ ان کا ایمان بڑھادیتی ہیں اور وہ اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ وہ نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انھیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ یہی لوگ حقیقی مومن ہیں۔ ان کے لئے ان کے رب کے پاس درجے اور مغفرت ہیں اور ان کے لئے عزت کی روزی ہے۔ (الأنفال ۲- ۴) ایمان عظیم ترین حقیقت کی دریافت ہے۔ جب یہ حقیقت کسی آدمی کے سینے میں اترتی ہے تو وہ اس کی پوری شخصیت میں زلزلہ پیدا کر دیتی ہے۔ ایسے انسان کا حال یہ ہوتا ہے کہ جب اس کو کسی حق کی یاد دلائی جائے تو وہ فوراً ہی اسے قبول کر لیتا ہے۔ خدا کو قادر مطلق کے طور پر دریافت کرنا اس کے اندر فطری طور پر اعتماد کی صفت پیدا کر دیتا ہے۔ ایسے انسان کے اندر فطری طور پر قسم کی اعلیٰ صفات پیدا ہونے لگتی ہیں۔ وہ ایک طرف اللہ کا سچا عبادت گزار بن جاتا ہے اور دوسری طرف بندوں کا سچا دوست اور خیر خواہ۔ خدا کو اس کی عظمت و کمال کے ساتھ دریافت کرنا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ ایک ایسی دریافت ہے جو آدمی کے اندر سے فخر اور برتری کے تمام احساسات کو مٹادیتی ہے۔ وہ اس کو حقیقی معنوں میں ایک مومن بنادیتی ہے، اور حقیقی مومن ہی کا دوسرا نام حقیقی انسان ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page