مطالعہ قرآن
Urdu book, p. 75
By Maulana Wahiduddin Khan
حق و باطل میں امتیاز قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اے ایمان والو، اگر تم اللہ سے ڈرو تو وہ تمہارے لئے فرقان بہم پہنچائے گا۔ اور تم سے تمہارے گناہوں کو دور کر دے گا اور تم کو بخش دے گا اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ (الانفال ۲۹) متقی انسان وہ ہے جس کے سینہ میں اندیشہ ناک دل ہو جو ایک طرف خدا کی رحمت کا امیدوار ہو اور اسی کے ساتھ اللہ کی پکڑ سے بہت زیادہ ڈرنے لگے۔ ایسا انسان صحیح اور غلط کے معاملے میں بہت زیادہ حساس ہو جاتا ہے۔ وہ اس کا تحل نہیں کر سکتا کہ ایک چیز کو حق جانے اور اس کے باوجود وہ اس کو اختیار نہ کرے۔ اسی طرح وہ اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ وہ ایک چیز کو باطل جانے اور اس کے باوجود وہ اس میں ملوث ہو جائے۔ اس قسم کی اندیشہ ناک نفسیات آدمی کے اندر وہ صلاحیت پیدا کر دیتی ہے جس کو یہاں فرقان کہا گیا ہے۔ یعنی حق اور باطل کے درمیان تمیز کرنے والا۔ جس آدمی کے اندر یہ صلاحیت پیدا ہو جائے وہ اس کے لئے اس بات کی ضامن بن جائے گی کہ وہ ہمیشہ صحیح انداز میں سوچے، اور اپنی عملی روش کے لئے ہمیشہ صحیح رویہ اختیار کرے۔ صلح کی حکمت قرآن میں دشمن طاقتوں کا ذکر کرتے ہوئے پیغمبر اسلام سے کہا گیا ہے: اور اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی اس کے لئے جھک جاؤ اور اللہ پر بھروسہ رکھو۔ بے شک وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ اور اگر وہ تم کو دھوکا دینا چاہیں گے تو اللہ تمہارے لئے کافی ہے۔ وہی ہے جس نے اپنی نصرت اور مومنین کے ذریعہ تم کو قوت دی۔ (الانفال ۶۱۔ ۶۲) اس سے معلوم ہوا کہ فریق مخالف اگر یہ پیش کش کرے کہ آؤ، ہم مقابلہ آرائی کا طریقہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader