مطالعہ قرآن
Urdu book, p. 76
By Maulana Wahiduddin Khan
چھوڑ کر آپس میں صلح کر لیں تو اہلِ ایمان کو چاہئے کہ وہ اس پیش کش کو قبول کر لیں۔ اگر بالفرض یہ اندیشہ ہو کہ فریقِ مخالف کا دل صاف نہیں ہے اور وہ دھوکہ دینے کے ارادے سے ایسا کر رہا ہے تب بھی اہلِ ایمان کو چاہئے کہ اللہ کے بھروسے پر اس کی پیش کش کو قبول کر لیں ۔ اس قرآنی اصول میں ایک اہم حکمت چھپی ہوئی ہے۔ وہ یہ کہ صلح اہلِ ایمان کو عمل کے میدان سے ہٹاتی نہیں، بلکہ وہ ان کو دوسرے، زیادہ بڑے عمل کی طرف موڑ دیتی ہے۔ اور یہ تعمیر و استحکام کا عمل ہے۔ جنگ و مقابلہ کی حالت میں تعمیری سرگرمیاں رکی رہتی ہیں جب کہ صلح تعمیر کے مواقع کو کھول دینے والی ہے۔ اگر صلح کے ذریعہ حاصل ہونے والے مواقع کو تعمیر و استحکام کے لئے استعمال کیا جائے تو عین ممکن ہے کہ اس سے اتنا بڑا مثبت فائدہ ہو جائے جو جنگ و قتال کے ذریعہ ہر گز ممکن نہیں۔ دعوت و تبلیغ ہر حال میں قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اور اگر مشرکین میں سے کوئی شخص تم سے پناہ مانگے تو اس کو پناہ دے دو تا کہ وہ اللہ کا کلام سنے پھر اس کو اس کی جگہ پہنچادو۔ یہ اس لئے کہ وہ لوگ علم نہیں رکھتے۔ (التوبہ ۶) قرآن کی یہ آیت دورِ اول کے ان مخالفینِ اسلام کے بارے میں ہے جو اس زمانے کے مسلمانوں سے بر سرِ جنگ تھے۔ اس کے باوجود انھیں حسبِ حالاتِ اسلام سے متعارف کرانے کا حکم دیا گیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ نہ صرف عام حالت میں بلکہ ہنگامی حالت میں بھی دعوت و تبلیغ کے عمل کو جاری رہنا چاہئے۔ جنگ کے زمانہ میں اگر دشمن کا کوئی فرد یہ کہے کہ میں اسلام کو سمجھنا چاہتا ہوں تو مسلمانوں کو حکم ہے کہ اس کو امان دے کر اپنے ماحول میں آنے کا موقع دیں اور اسلام کے پیغام سے اس کو متعارف کرنے کی کوشش کریں۔ اس کے باوجود اگر وہ اسلام کی طرف راغب نہ ہو تو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader