مطالعہ قرآن
Urdu book, p. 77
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنی حفاظت میں اس کو اس کے ٹھکانے تک پہنچادیں۔ بظاہر اگر چہ وہ دشمن گروہ کا ایک فرد ہے مگر یہ درست نہ ہوگا کہ اس کو دشمن سمجھ کر اس کے ساتھ سخت معاملہ کیا جائے۔ جنگ کے زمانہ میں دشمن کو اس کی رعایت دینا انتہائی نازک ہے۔ کیوں کہ عین ممکن ہے کہ دشمن کا کوئی جاسوس اس رعایت سے فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کے اندر گھس آئے اور ان کے فوجی راز معلوم کرنے کی کوشش کرے۔ مگر اسلام کی نظر میں دعوت و تبلیغ کا مسئلہ اتنا زیادہ اہم ، کہ اس نازک خطرہ کے باو رداں کا دروازہ بند نہیں کیا گیا۔ 9-038 جار حیت نہیں اجتماعی معاہدات کا ذکر کرتے ہوئے قرآن میں ارشاد ہوا ہے: ان مشرکوں کے لئے اللہ اور اس کے رسول کے ذمہ کوئی عہد کیسے رہ سکتا ہے، مگر جن لوگوں سے تم نے عہد کیا تھا مسجد حرام کے پاس، پس جب تک وہ تم سے سیدھے رہیں تم بھی ان سے سیدھے رہو، بے شک اللہ پر ہیز گاروں کو پسند کرتا ہے۔ (التوبہ ۷) قرآن کی اس آیت سے بین اقوامی تعلق کا بنیادی اصول معلوم ہوتا ہے۔ وہ اصول یہ ہے کہ جب تک فریق ثانی باہمی تعلق میں مستقیم رہے اہل ایمان کو بھی ان کے ساتھ مستقیم رہنا چاہئے۔ اگر فریق ثانی اس شرط کو توڑ دے تو اس کے بعد اہل ایمان بھی حسب حال اپنے بچاؤ کے لئے ضروری اقدام کر سکتے ہیں۔ مستقیم ہونے کی دو بڑی صورتیں ہیں۔ ایک یہ ہے کہ دونوں فریقوں کے در میان با قاعدہ طور پر کوئی تحریری معاہدہ ہوا ہو۔ ایسی حالت میں مستقیم ہونے یا نہ ہونے کا معیار معاہدہ کی یہ تحریر ہوگی۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی انٹرنیشنل قانون یارواج موجود ہو جس کو عمومی طور پر قوموں کے در میان تسلیم کیا جاتا ہو۔ ایسی حالت میں اس بین اقوامی رواج یا قانون کو بھی مسلمہ معیار کی حیثیت حاصل ہوگی جس کی بنیاد پر یہ طے کیا جائے گا کہ فریق ثانی مستقیم ہونے کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader