مطالعہ قرآن
Urdu book, p. 78
By Maulana Wahiduddin Khan
مطلوب معیار پر قائم ہے یا نہیں۔ بین اقوامی تعلقات یا صلح و جنگ کے لئے یہی بنیادی اصول ہے۔ اس اصول کی تعمیل ہر حال میں مطلوب ہے، کسی بھی حال میں اس کی خلاف ورزی کرنا کسی مسلم گروہ کے لئے جائز نہیں۔ 9-039 زوال کی علامت قدیم اہل کتاب کو خطاب کرتے ہوئے قرآن میں ارشاد ہوا ہے : انہوں نے اخبار اور اپنے رہبان کو اللہ کے سوارب بناڈالا اور مسیح ابن مریم کو بھی۔ حالانکہ ان کو صرف یہ حکم تھا کہ وہ ایک معبود کی عبادت کریں۔ وہ پاک ہے اس سے جو وہ شریک کرتے ہیں (التوبہ ۳۱) اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کوئی امت زوال کا شکار ہوتی ہے تو اس کے اندر کیا خاص کمزوری پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ یہ کہ ایسی امت رسمی طور پر تو خدا کو مانتی ہے مگر عملی طور پر اس کا پو را دین اخبار اور رہبان کی بنیاد پر قائم ہو جاتا ہے۔ خدا کی کتاب اب ان کے یہاں صرف برکت کی چیز بن جاتی ہے۔ وہ اپنا دین علماء کے اقوال اور بزرگوں کے ملفوظات سے لینے لگتے ہیں نہ کہ حقیقۃً خدا اور اس کے رسول کے کلام سے۔ وہ خدا کی عظمت سے بے خبر ہو کر اپنی کچھ شخصیتوں کو اکابر کا درجہ دے دیتے ہیں۔ ان مفروضہ اکابر کے ارد گرد پر اسرار کہانیوں کا ایک طلسماتی ہالہ بن جاتا ہے۔ ان بے اصل کہانیوں پر لوگ اس طرح یقین کر لیتے ہیں جیسے کہ وہ بالکل واقعہ ہوں۔ ایسے لوگ بظاہر اپنی زبان سے خدا کا انکار نہیں کرتے مگر عملاً وہ اپنے اکابر کو وہی درجہ دے دیتے ہیں جو صرف خدا کا ہونا چاہئے۔ اسی عملی حالت کی بنا پر اس آیت میں انھیں اللہ کے سوا دوسروں کو اپنا رب بنانے کا مجرم قرار دیا گیا۔ 9-040 ایک گروہ ضروری قرآن میں ارشاد ہوا ہے : اور یہ ممکن نہ تھا کہ اہل ایمان سب کے سب نکل کھڑے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader