مطالعہ قرآن
Urdu book, p. 79
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوں۔ تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کے گروہ میں سے ایک حصہ نکل کر آتا تا کہ وہ دین میں سمجھ پیدا کرتا اور واپس جا کر اپنی قوم کے لوگوں کو آگاہ کرتا تا کہ وہ بھی پر ہیز کرنے والے بنتے۔ (التوبہ ۱۲۲) اسلام میں یہ مطلوب ہے کہ ہر زمانہ کے مسلمانوں میں کم از کم ایک داعی گروہ موجود ہو۔ اس مقصد کے لئے ملت کے اندر ایک باقاعدہ تعلیمی نظام ہونا ضروری ہے، تاکہ نسل در نسل ہر زمانہ میں ایسے دعوتی افراد تیار ہوتے رہیں اور دعوت کے عمل کا تسلسل ہر انسانی نسل میں جاری رہے۔ اس مقصد کے لئے جو تعلیمی نظام بنایا جائے اس کا بنیادی نصاب مذکورہ آیت کے مطابق، دو قسم کے اجزاء پر مشتمل ہونا چاہئے ۔ ایک یہ کہ وہ حق کا پورا علم اور اس کے کامل فہم کی استعداد پیدا کرتا ہو۔ دوسرے یہ کہ افراد ان دیگر علوم سے مسلح ہوں جو مدعو قوم کی نسبت سے ضروری ہے۔ مثلاً مدعو کی زبان جاننا اور زمانہ کے افکار سے واقف ہونا، وغیرہ۔ ملت کے اوپر فرض کے درجہ میں ضروری ہے کہ وہ تعلیم و تربیت کا ایسا انتظام کرے جس کے ذریعہ ہر نسل اور ہر دور میں ایسے داعی تیار ہوتے رہیں۔ کوئی بھی دوسری سرگرمی اس ذمہ داری کا بدل نہیں سکتی۔ مثال کے طور پر مسلمان کسی زمانہ میں اس قسم کے داعی گروہ تیار نہ کریں تو وہ اللہ کے یہاں صرف اس لئے بری الذمہ نہیں ہو سکتے کہ انہوں نے ہر جگہ عالیشان مسجدیں کھڑی کردی ہیں۔ 10-041 فطرت کا الارم قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اور انسان کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے ہم کو پکارتا ہے۔ پھر جب ہم اس سے اس کی تکلیف کو دور کر دیتے ہیں تو وہ ایسا ہو جاتا ہے گویا اس نے کبھی اپنے کسی برے وقت پر ہم کو پکارا ہی نہ تھا۔ اس طرح حد سے گزرنے والوں کے لئے ان کے اعمال خوش نما بنا دئے گئے ہیں۔ (یونس ۱۲) دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ آدمی بار بار کسی نہ کسی تکلیف یا حادثہ کی زد میں آجاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader