Urdu book · مطالعہ قرآن

مطالعہ قرآن

Urdu book, p. 80

By Maulana Wahiduddin Khan

جب ایسا ہوتا ہے تو آدمی محسوس کرنے لگتا ہے کہ خارجی طاقتوں کے مقابلہ میں وہ بالکل بے بس ہے۔ اس وقت آدمی بے اختیار ہو کر خدا کو پکارنے لگتا ہے۔ وہ خدا کی قدرت کے مقابلہ میں عجز کا اعتراف کر لیتا ہے۔ مگر یہ حالت صرف اس وقت تک رہتی ہے جب تک وہ مصیبتوں کی گرفت میں ہو، مصیبت سے نجات پاتے ہی وہ دوبارہ ویساہی غافل اور سرکش بن جاتا ہے جیسا کہ وہ اس سے پہلے تھا۔ ایسے لوگوں کے اظہار بندگی کو خدا تسلیم نہیں کرتا۔ کیوں کہ اظہار بندگی وہ مطلوب ہے جو آزادانہ حالات میں کی جائے، مجبورانہ حالات میں ظاہر کی ہوئی بندگی کی خدا کے نزدیک کوئی قیمت نہیں۔ حقیقت کی تلاش کا پہلا مرحلہ اپنے عجز کی دریافت ہے۔ آدمی جب اس تجربہ سے گزرتا ہے تو وہ محسوس کرتا ہے کہ خدا کے بغیر اس کا وجود بالکل بے معنی ہے۔ اس وقت وہ بے تابانہ طور پر خدا کا اعتراف کرنے لگتا ہے۔ مگر اکثر انسانوں کا یہ حال ہے کہ ان کا یہ اعتراف حالات کے دبائو کے تحت ہوتا ہے نہ کہ حقیقتاً شعوری فیصلہ کے تحت۔ چنانچہ ایسے لوگ حالات بدلنے کے بعد کسی خود ساختہ توجیہہ کا سہارا لے کر خدا کو بھول جاتے ہیں اور دوبارہ اپنے آپ کو بے خدا زندگی پر راضی کر لیتے ہیں۔ اس دنیا میں لازمی طور پر حالات کا اتار چڑھائو پیش آتا ہے۔ یہ حالات ہر انسان کے لئے قدرت کا الارم ہیں۔ یہ الارم انسان کی سوئی ہوئی فطرت کو جگا دیتے ہیں۔ خوش قسمت انسان وہ ہے جو فطرت کی اس بیداری سے سچا سبق لے اور اپنی زندگی کو مستقل طور پر خدا پر ستانہ زندگی بنادے۔ خلافت ارضی قرآن میں گزری ہوئی قوموں کا ذکر کیا گیا ہے اور پھر اس کے بعد ان کی جگہ لینے والی نئی قوموں کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: پھر ہم نے ان کے بعد تم کو ملک میں جانشین بنایا تا کہ ہم دیکھیں کہ تم کیسا عمل کرتے ہو۔ (یونس ۱۴)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page