Urdu book · مطالعہ قرآن

مطالعہ قرآن

Urdu book, p. 81

By Maulana Wahiduddin Khan

دنیا کی قوموں کا معاملہ سمندر اور پہاڑ جیسا نہیں ہے کہ ایک ہی قوم ہزاروں سال تک زمین پر آباد رہے۔ بلکہ تھوڑی تھوڑی مدت کے بعد لوگ مرتے رہتے ہیں اور ایک قوم کے بعد دوسری قوم زمین پر آباد ہوتی ہے اور اپنا اقتدار قائم کرتی ہے۔ اسی انسانی نظام کو قرآن میں خلافت کہا گیا ہے، یعنی ایک کا جانا اور اس کے بعد دوسرے کا اس کی جگہ لیناـ اس دنیا میں کسی قوم کو خلیفہ (با اقتدار جانشین) بنانا اعزاز کے لئے نہیں بلکہ امتحان کے لئے ہوتا ہے۔ جانشین بنانے کا مطلب ایک کے بعد دوسرے کو کام کا موقع دینا ہے، ایک قوم کے بعد دوسری قوم کو امتحان کے میدان میں کھڑا کرنا ہے۔ مثال کے طور پر ہندوستان میں پہلے مختلف دیسی راجا حکومت کر رہے تھے اس کے بعد ان کی جگہ مغلوں کو یہ منصب دیا گیا۔ پھر ان کو ہٹا کر انگریز ان کے جانشین بنائے گئے۔ اس کے بعد انھیں ملک سے نکال کر اس ملک کے اکثریتی فرقہ کے لئے جگہ خالی کی گئی۔ ان میں سے ہر بعد کو آنے والا اپنے پہلے کا خلیفہ (سیاسی جانشین) تھا۔ خلافت یا سیاسی جانشینی دراصل امتحان کا پرچہ ہے۔ اس دنیا میں آنے والا ہر انسانی گروہ خدا کی طرف سے زیر امتحان ہے۔ ہر گروہ کو بہر حال آزمائش کے مرحلہ سے گزرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس دنیا میں خلافت یا سیاسی اقتدار مستقل طور پر کسی ایک گروہ کو نہیں ملتا بلکہ وہ بار بار بدلتا رہتا ہے تاکہ باری باری ہر ایک کا امتحان لیا جاسکے۔ 10-043 شفائے قلب قرآن میں اس کتابِ ہدایت کے نزول کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: اے لوگو، تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے نصیحت (خدا کی کتاب) آگئی اور اس کے لئے شفاء جو سینوں میں ہوتا ہے اور اہلِ ایمان کے لئے ہدایت اور رحمت۔ (یونس ۷۵) حدیث میں آیا ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا۔ اس نے کہا کہ مجھے اپنے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page