شفائے قلب
Urdu book, p. 82
By Maulana Wahiduddin Khan
دل سے شکایت ہے۔ آپ نے فرمایا تم قرآن پڑھا کرو۔ اس کے بعد آپ نے قرآن کی مذکورہ آیت تلاوت فرمائی (جاء رجل الى النبی ﷺ و قال انی اشتکی صدری ، قال اقرأ القرآن يقول الله تعالی وشفاء لما في الصدور) التفسير المظهري المجلد الخامس ، ۳۵۔ قرآن دل کی بیماری کے لئے شفاء ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی سچا طالب ہو، وہ جب قرآن کو پڑھے گا تو قرآن کے صفحات میں اس کو اپنے ذہنی سوالات کا جواب اور قلبی بیماریوں کا علاج معلوم ہوتا رہے گا۔ مثال کے طور پر ایک شخص کو خدا کے وجود کے بارے میں شک ہے۔ وہ اپنے اس ذہن کو لے کر قرآن کو پڑھنا شروع کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اس آیت پر پہنچتا ہے ” ا فی الله شك فاطر السموات والارض “ (ابراھیم ۱۰) وہ جب اس آیت پر غور کرے گا تو اس کو اس آیت میں خدا کے وجود کا خالص عقلی ثبوت مل جائے گا۔ اس طرح یہ آیت اس کے شک کو یقین میں بدلنے کا ذریعہ بن جائے گی (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو، تذکیر القرآن ، ۵۴۲) اسی طرح ایک شخص کسی اشتعال انگیز بات پر غضبناک ہو گیا ہے اس کے دل میں انتقام کی آگ بھڑک رہی ہے۔ اب وہ قرآن پڑھنا شروع کرتا ہے یہاں تک کہ وہ اس آیت پر پہنچتا ہے ” واذا ما غضبوا هم يغفرون “ (الشوریٰ ۷۳) جب وہ اس آیت پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرے گا تو وہ اس زندگی کا ایک نہایت اہم نکتہ پا جائے گا۔ وہ یہ کہ اشتعال انگیزی کا جواب غضبناک ہونا نہیں ہے بلکہ اس کو نظر انداز کر دینا ہے۔ اسی روش میں انسان کی فلاح کا راز چھپا ہوا ہے۔ ایک شخص کو کسی سے ظلم و زیادتی کا تجربہ ہوتا ہے۔ وہ ظاہری واقعات کی بناء پر اس کو اپنی محرومی کا ذمہ دار سمجھ لیتا ہے۔ وہ چاہنے لگتا ہے کہ اس کے خلاف احتجاج اور حقوق طلبی کی مہم چلائے۔ اب وہ اس معاملہ میں قرآن سے رجوع کرتا ہے۔ قرآن کو پڑھتے ہوئے وہ اس آیت پر پہنچتا ہے ” وما اصابكم من مصيبة فيما كسبت ايديكم “ (الشوریٰ ۳۰) یہ آیت اس کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader