شفائے قلب
Urdu book, p. 83
By Maulana Wahiduddin Khan
جھنجھوڑتی ہے، وہ معاملہ پر از سر نو غور کرنا شروع کر دیتا ہے۔ یہاں تک کہ اس پر کھلتا ہے کہ اس کے ساتھ جو کچھ پیش آیا وہ صرف اس کی داخلی کمی کی بنا پر پیش آیا ہے۔ ایسی حالت میں کسی مفروضہ دشمن کے خلاف شور و غل کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس سے سبق لے کر وہ اپنی داخلی کمی کو دور کرنے میں لگ جاتا ہے یہاں تک کہ وہ کامیاب ہو جاتا ہے۔ اس طرح ایک شخص کے ساتھ کوئی ناخوشگوار تجربہ پیش آتا ہے۔ مثلاً اس کی بیوی بظاہر اس کی پسند کے مطابق نہیں۔ وہ اس طرح کے تجربہ کی تلخ یاد اپنے سینہ میں لئے ہوئے ہے۔ اس کے بعد وہ قرآن پڑھتا ہے، قرآن کو پڑھتے ہوئے وہ اس آیت تک پہنچتا ہے "وعسى ان تكرهوا شيئاً و هو خير لكم وعسى ان تحبوا شيئاً و هو شر لكم (البقره (۲۱۶) یہ آیت اس کو سوچنے کا ایک نیا رخ دے دیتی ہے۔ اس پر غور کرتے ہوئے وہ اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ ظاہری پسند اور ظاہری نا پسند کی حیثیت بالکل اضافی ہے۔ محض ظاہر کی بنیاد پر کسی چیز کے بارے میں صحیح رائے قائم نہیں کی جاسکتی۔ عین ممکن ہے کہ ظاہر کے اعتبار سے کوئی چیز اچھی نہ لگتی ہو، مگر اپنی داخلی حقیقت کے اعتبار سے اس کے اندر کوئی بہت بڑی خوبی موجود ہو۔ جب اس کا ذہن اس طرح سوچے گا تو عین ممکن ہے کہ وہ جس چیز کو بظاہر نا پسندیدہ چیز سمجھے ہوئے تھا، اس کے اندر اس کو کوئی ایسا پسندیدہ پہلو مل جائے جو اتنا زیادہ قیمتی ہو کہ اس کی ظاہری نا پسندیدگی اس کو غیر اہم دکھائی دینے لگے۔ اسی طرح ایک انسان جس کو قلبی سکون حاصل نہیں۔ اس نے محنت کر کے اپنا ایک گھر بنایا۔ اس نے لمبی جدوجہد کے بعد اپنی ایک اقتصادی دنیا تعمیر کی۔ اس نے ایک پسندیدہ خاتون سے نکاح کیا، اس سے اس کے یہاں کئی بچے پیدا ہوئے۔ اس کا گھر بھر پور خاندان والا گھر بن گیا۔ ان سب کے باوجود وہ محسوس کر رہا ہے کہ اس کو حقیقی معنوں میں خوشی اور سکون حاصل نہیں۔ وہ اب بھی اسی بے چینی میں جی رہا ہے۔ اب اس نے قرآن کو پڑھنا شروع کیا۔ قرآن کو پڑھتے ہوئے وہ اس آیت پر پہنچا: ألا بذكر الله تطمئن القلوب ۔ (الرعد ۲۸) یہ آیت اس کو چو نکاتی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader