مطالعہ قرآن
Urdu book, p. 84
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے، وہ اس پر غور کرنا شروع کرتا ہے۔ یہاں تک کہ اس پر ایک ایسی حقیقت منکشف ہوتی ہے جس کو وہ اس سے پہلے جانتا نہ تھا۔ وہ یہ کہ سکون کے حصول کا ذریعہ مادی چیزیں نہیں ہیں۔ بلکہ اس کا ذریعہ صرف ایک ہے اور وہ خدا کا ذکر (یاد) ہے۔ اصل یہ ہے کہ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے ایک معیار پسند (idealist) مخلوق ہے۔ جب کہ دنیا کی تمام چیزیں اپنی نوعیت کے اعتبار سے معیار سے کم تر ہیں۔ ہر چیز نقص یا محدودیت کا شکار ہے۔ دنیا کی ہر چیز آدمی کو اس کی طلب سے کم دکھائی دیتی ہے۔ اس کے برعکس خدا آخری حد تک ایک کامل ہستی ہے۔ وہ ہر قسم کے نقص سے پاک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آدمی کو سکون صرف اس وقت ملتا ہے جب کہ وہ خدا کو پالے ، وہ اس کی یادوں میں زندگی گزارنے لگے۔ قرآن میں بلاشبہ دلوں کے لئے شفاء ہے، مگر یہ شفاء صرف اس کے لئے ہے جو قرآن سے اپنے لئے رہنمائی کا طالب ہو۔ جو کھلے ذہن کے ساتھ قرآن کو پڑھے اور کسی شرط کے بغیر قرآن کے پیغام کو ماننے کے لئے تیار ہو۔ اس دنیا میں کوئی بھی مطلوب چیز صرف اس کے طالب کو ملتی ہے نہ کہ اس کو جو سرے سے اس کا طالب ہی نہیں۔ 10-044 اللہ کے اولیاء قرآن میں ارشاد ہوا ہے : سن لو، اللہ کے اولیاء کے لئے نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور ڈرتے رہے، ان کے لئے خوش خبری ہے دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں ، اللہ کی باتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ، یہی بڑی کامیابی ہے۔ (یونس ۶۲ - ۶۴) اولیاء اللہ، قرآن کے مطابق، کسی پراسرار گروہ کا نام نہیں۔ یہ معلوم انسان ہیں اور ان کی صفات مذکورہ آیت میں بیان کر دی گئی ہیں۔ وہ صفات یہ ہیں کہ ۔ وہ صاحب ایمان ہوں، یعنی انھیں معرفت کے درجہ میں اللہ کا تعلق حاصل ہو جائے۔ وہ اپنی زندگی کے تمام معاملات میں وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader