مطالعہ قرآن
Urdu book, p. 85
By Maulana Wahiduddin Khan
روش اختیار کریں جو اللہ کے خوف کے تحت بنتی ہے۔ یہ صفات جن لوگوں کے اندر حقیقی طور پر پیدا ہو جائیں ان کو دنیا ہی میں ایک ربانی زندگی حاصل ہو جاتی ہے۔ وہ اللہ کی توفیق سے اس راستہ پر چل پڑتے ہیں جس کی آخری منزل جنت ہے۔ یہ اللہ کے اٹل قانون کے تحت ہوتا ہے۔ اس میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں۔ اولیاء اللہ کا لفظ اسی طرح ایک معلوم شرعی لفظ ہے جس طرح مومن اور متقی کا لفظ۔ اولیاء اللہ کا درجہ کسی کو معلوم شرعی قوانین کے ذریعہ ملتا ہے نہ کہ کسی پر اسرار نسبت کے ذریعہ۔ 10-045 ہدایت و ضلالت قرآن میں ہدایت و ضلالت کا قانون بتاتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: اور کسی شخص کے لئے ممکن نہیں کہ وہ اللہ کی اجازت کے بغیر ایمان لائے۔ اور اللہ ان لوگوں پر گندگی ڈال دیتا ہے جو عقل سے کام نہیں لیتے ۔ (یونس (۱۰۰) کوئی شخص خدا کے اذن کے بغیر ایمان نہیں لا سکتا کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں کسی کو ایمان کی نعمت ملے گی تو اس طریقہ کی پیروی کر کے ملے گی جو خدا نے اس کے لئے مقرر کر دیا ہے۔ موجودہ دنیا میں ایمان کو پانے کا راستہ یہ ہے کہ آدمی ایمان کی دعوت کو اپنی عقل کے استعمال سے سمجھے۔ اللہ نے انسان کو عقل دی ہے۔ جس شخص کی عقل کے اوپر اس کی دنیوی مصلحتیں غالب آجائیں اس کی عقل گویا گندگی کی کیچڑ میں لت پت ہو گئی ہے۔ ایسے شخص کے لئے اس دنیا میں ایمان کی نعمت پانے کا کوئی امکان نہیں۔ انسان کو عقل اسی لئے دی گئی ہے کہ وہ اس کے ذریعہ حق اور باطل میں تمیز کرے۔ وہ عقل کو استعمال کر کے سچائی کو دریافت کرے۔ یہی اللہ کی طرف سے مقرر کیا ہوا حق کا راستہ ہے۔ جو لوگ اپنی عقل کو بے آمیز طور پر استعمال کریں گے وہ حق کو پائیں گے۔ اور جو لوگ اپنی خدا داد عقل کو بے آمیز طور پر استعمال کرنے میں ناکام رہیں وہ حق کو پانے میں ناکام ہو جائیں گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader