Urdu book · مطالعہ قرآن

مطالعہ قرآن

Urdu book, p. 86

By Maulana Wahiduddin Khan

جنت والے قرآن میں ارشاد ہوا ہے: جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے اور اپنے رب کے سامنے عاجزی کی، وہی لوگ جنت والے ہیں۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (ہود ۲۳) آیت میں اخبات کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں عاجزی کرنا۔ عربی میں کہتے ہیں ”هو خبیث القلب“ (وہ شکستہ دل ہے) یہی ایمان کا خلاصہ ہے۔ ایمان نہ کوئی وراثت ہے اور نہ کسی لفظی مجموعہ کی لسانی ادائیگی۔ ایمان ایک ذہنی دریافت ہے۔ آدمی جب اپنے سمع وبصر (بالفاظ دیگر شعور) کو استعمال کر کے خدا کو پاتا ہے اور اس کے مقابلہ میں اپنی حیثیت کا ادراک کرتا ہے تو اس وقت اس کے اوپر جو کیفیت طاری ہوتی ہے اسی کا نام عجز (اخبات) ہے۔ بجز خدا کے مقابلہ میں اپنی حیثیت واقعی کی پہچان کا لازمی نتیجہ ہے۔ ایمان، اخبات اور عمل صالح تینوں ایک ہی حقیقت کے مختلف پہلو ہیں۔ ایمان خدا کے وجود اور اس کی صفات کمال کی شعوری دریافت ہے۔ اخبات اس قلبی حالت کا نام ہے جو خدا کی دریافت کے نتیجہ میں لازماً آدمی کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ عمل صالح اسی شعور اور اسی کیفیت سے پیدا ہونے والی خارجی صورت ہے۔ آدمی جب خدا کے ذہن سے سوچتا ہے۔ جب اس کا دل خدائی کیفیات سے بھر جاتا ہے تو اس کے عین فطری نتیجہ کے طور پر اس کی ظاہری زندگی خدا کی پسند والے اعمال میں ڈھل جاتی ہے۔ اسی کا نام عمل صالح ہے۔ جو شخص ایمان، اخبات اور عمل صالح کا پیکر بن جائے وہی خدا کا مطلوب انسان ہے۔ اور وہی وہ انسان ہے جس کو جنت کے ابدی باغوں میں بسایا جائے گا۔ سیئات کی تلافی قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اور تم نماز قائم کرو، دن کے دونوں حصوں میں اور رات کے کچھ حصہ میں۔ بے شک نیکیاں دور کرتی ہیں برائیوں کو۔ یہ یاد دہانی ہے یاد دہانی حاصل کرنے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page