مطالعہ قرآن
Urdu book, p. 87
By Maulana Wahiduddin Khan
والوں کے لئے۔ (ھود، ۱۱۴) انسان کی تخلیق اس طرح ہوئی ہے کہ اس سے بار بار غلطیاں سرزد ہوتی ہیں۔ وقتی اثرات کے تحت وہ گناہوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ انسان کے اندر ضمیر کا مادہ رکھا گیا ہے۔ جب بھی انسان سے کوئی کو تاہی سرزد ہوتی ہے تو اس کا ضمیر جاگ اٹھتا ہے۔ وہ اس کو ملامت کرنے لگتا ہے کہ تم نے ایسا کیوں کیا۔ اب انسان کیا کرے ۔ ایک طرف بشری تقاضے کے تحت اس سے ایک گناہ سرزد ہو چکا۔ دوسری طرف اس کا ضمیر اندر سے ملامت کر کے اس کو مسلسل بے چین کئے ہوئے ہے۔ مذکورہ آیت میں اسی مسئلہ کا حل بتایا گیا ہے۔ آدمی اس آیت پر عمل کر کے اپنے دل کے بوجھ کو ہلکا کر سکتا ہے۔ اسی کے ساتھ وہ اللہ سے اپنے تعلق کو دوبارہ قائم کر سکتا ہے۔ یہ قرآنی تدبیر کیا ہے، یہ ہے برائی کے بعد بھلائی کرنا۔ یہ بھلائی اسی طرح برائی کو دھو دے گی جس طرح پانی گندگی کو دھو دیتا ہے۔ اس بھلائی کی مختلف صورتیں ہیں۔ مثلاً دل سے توبہ کرنا، نماز پڑھنا، ذکر و دعا میں مشغول ہونا، مالی صدقہ کرنا، ضرورت مندوں کے کام آنا، اس آدمی کے حق میں نیک دعائیں کرنا جس کے ساتھ زیادتی ہو گئی ہو، وغیرہ۔ 11-048 اختلاف کی حکمت قرآن میں ارشاد ہوا ہے : اور اگر تیرا رب چاہتا تو لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا مگر وہ ہمیشہ اختلاف میں رہیں گے سوا ان کے جن پر تیرا رب رحم فرمائے۔ اور اس نے اسی لئے ان کو پیدا کیا ہے۔ اور تیرے رب کی بات پوری ہوئی کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سے اکٹھے بھر دوں گا۔ (ہود ۱۱۹-۱۱۸) اس آیت میں جس اختلاف کا ذکر ہے، اس سے مراد مذہبی اختلاف ہے۔ یعنی دنیا میں مختلف مذاہب کا ہونا اور لوگوں کا الگ الگ مذہب اختیار کرنا۔ مجاہد اور قتادہ سے اس کی یہی تفسیر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader