اختلاف کی حکمت
Urdu book, p. 88
By Maulana Wahiduddin Khan
منقول ہے۔ تفسیر القرطبی میں ہے: ای علی ادیان شتی، قاله مجاهد و قتادہ۔ (القرطبی الجزء التاسع، صفحه ۱۱۴) قرآن میں بتایا گیا ہے کہ صراط مستقیم یا دین حق صرف ایک ہے، اس کے سوا جو کچھ ہے، وہ گمراہی ہے۔ (یونس ۳۲) ایسی حالت میں یہ سوال ہے کہ دنیا میں بہت سے دین کیوں۔ جب اللہ کے نزدیک ایک ہی دین ہے جو انسان کو جنت کی طرف لے جانے والا ہے تو اللہ تعالیٰ نے ایسا کیوں نہیں کیا کہ دنیا میں صرف ایک ہی دین ہوتا۔ دین حق کے سوا دوسرے ادیان یہاں سرے سے موجود ہی نہ ہوتے۔ تاکہ انسان غلط انتخاب کی گمراہی سے بچ جائے اور جنت کے راستہ پر چلنا اس کے لئے آسان ہو جائے۔ جواب یہ ہے کہ یہ اللہ کی اسکیم ہی نہیں۔ اللہ نے اس دنیا میں امتحان کا وہ طریقہ رکھا ہے جس کو تعلیمی اصطلاح میں اکتشافی طریقہ (discovery method) کہا جاتا ہے۔ یعنی مختلف اور متفرق چیزوں کو سامنے بکھیر دینا اور طالب علم کو یہ موقع دینا کہ وہ اپنی سمجھ کو استعمال کر کے ان کی ایک وحدت بنائے ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ایسا کیا کہ ایک دین حق کے ساتھ دوسرے بہت سے غیر صحیح ادیان کو زندہ رہنے کا موقع دیا۔ اب ہر انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنی خداداد عقل کو استعمال کر کے صحیح اور غلط کے درمیان تمیز کرے۔ وہ ادیان باطلہ کو پہچان کر انھیں رد کرے اور دین حق کی معرفت حاصل کر کے اسے اختیار کرلے۔ اسی مصلحت کی بنا پر اللہ نے انسان کو بے اختیار مخلوق نہیں بنایا جیسا کہ دوسری مخلوقات کا معاملہ ہے۔ مثلاً حیوانات اپنی جبلت کے تابع ہیں اور جمادات قانون فطرت کے تابع۔ بلکہ انسان کو مکمل اختیار دے کر زمین پر آباد کیا گیا۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ کسی جبر کے بغیر خود اپنی آزادی سے حق کا راستہ اختیار کرے۔ وہ خود اپنے فیصلہ کے تحت ایک چیز کو چھوڑے اور خود اپنے فیصلہ کے تحت دوسری چیز کو اختیار کرے۔ خدا کی رحمت اس شخص کو ملتی ہے جو اپنے شعور کو اتنا جگائے کہ وہ امتحانی اختیار کے اندر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader